Updated: January 29, 2026, 9:58 PM IST
| London
۲۰۲۶ء کے لیے ڈومز ڈے کلاک نصف شب سے صرف ۸۵؍ سیکنڈ دور ہے۔ یہ اس علامتی گھڑی کے قیام کے بعد سے اب تک کی سب سے قریب ترین سطح ہے۔ سائنسدانوں نے جوہری ہتھیار، موسمیاتی تبدیلی، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی تعاون کی کمی کو اس فیصلے کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے۔ دنیا بھر میں حکمرانوںسے خطرات کے سدِ باب کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ڈومز ڈے کلاک کو ۲۷؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو نصب شب سے محض ۸۵؍ سیکنڈز پہلے تک مقرر کیا گیا، جو اس علامتی گھڑی کے قیام کے بعد سے اب تک کا سب سے کم وقت ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ دنیا انسانی بقا کے سب سے بڑے خطرات کے بہت قریب ہے۔ اس گھڑی کا مقصد عالمی خدشات کے بارے میں عوام اور لیڈروں کو خبردار کرنا ہے، خاص طور پر ایسے خطرات جن کا انسانی پیدا کردہ عوامل سے تعلق ہے، جیسے جوہری ہتھیار، موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی خطرات اور جدید ٹیکنالوجیز۔
یہ بھی پڑھئے: امیزون میں بڑی چھٹنی: اے آئی اور آٹومیشن کے باعث ۱۶؍ہزارملازمین کی نوکریاں ختم
ڈومزڈے کلاک کیا ہے؟
ڈومز ڈے کلاک ایک علامتی گھڑی ہے جسے بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹ نے ۱۹۴۷ء میں تخلیق کیا تھا۔ اس کا مقصد عالمی سطح پر ممکنہ تباہی کے امکانات کی نمائندگی کرنا ہے، جہاں نصف شب‘‘ (midnight) عالمی قیامت یا بڑے پیمانے پر تباہی کی علامت ہے۔ گھڑی کے سیکنڈز نصف شب کے جتنے قریب ہوں گے، دنیا خطرے سے اتنی زیادہ قریب سمجھی جاتی ہے۔
نصف شب سے صرف ۸۵؍ سیکنڈز دور
اس سال گھڑی کو ۸۵؍ سیکنڈز پر مقرر کرنے کی وجہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے خطرات ہیں۔ ادارے کے مطابق جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ، موسمیاتی بحران میں شدت، مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کے امکانات، اور بین الاقوامی تعاون میں کمی نے دنیا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ تنظیم نے خاص طور پر عالمی لیڈروں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اور مشترکہ اقدامات کریں تا کہ ان خطرات کو روکا جاسکے۔ تنظیم کی صدر اور سی ای او الیگزینڈرا بیل نے کہا کہ ’’انسانیت نے وہ پیش رفت نہیں کی جو لازمی ہے تاکہ ان وجودی خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔‘‘ انہوں نے عالمی سطح پر قیادت اور تعاون کی کمی کو خطرات بڑھانے کی اہم وجہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک کا گروک چیٹ بوٹ بچوں، نوعمروں کیلئے غیرمحفوظ: تحقیق
ڈومز ڈے کلاک اس وقت عالمی خطرات کے قریب ترین ہے، حالانکہ اس کی تاریخ ۱۹۴۷ء میں نصف شب سے ۷؍ منٹ دور سے شروع ہوئی تھی، پھر مختلف اوقات پر گھڑی آگے یا پیچھے کی جاتی رہی۔ گزشتہ سال گھڑی نصف شب سے ۸۹؍ سیکنڈز دور تھی مگر اس سال اس میں سے چار سیکنڈ کم کردیئے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گھڑی نئی اقسام کے ٹیکنالوجیکل خطرات کو بھی شامل کرتی ہے، جیسے مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی سیکوریٹی کے مسائل، اور کلائمیٹ چیلنجز جن کا حل عالمی سطح پر ضروری ہے۔ ان خطرات میں عالمی معاہدوں اور تعاون کا فقدان دنیا کو تباہی کے قریب لاتا ہے۔
ڈومز ڈے کلاک کی یہ تازہ ترین ترتیب ایک سخت پیغام ہے کہ عالمی قیادت اور عوامی شعور کو فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ انسانیت کو درپیش موجودہ خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔ اگر بین الاقوامی تعاون بحال نہ ہوا اور عالمی لیڈران نے خطرات کو کم نہ سمجھا، تو ممکنہ طور پر دنیا بڑے نقصان اور عدم استحکام کا سامنا کر سکتی ہے۔