معیشت کورفتار دینے کیلئے نقدی پہنچانا کافی نہیں ہے بلکہ لوگوں کو روزگاردینا ہوگا

Updated: November 14, 2020, 12:17 PM IST | Agency | New Delhi

حکومت کے چیف معاشی مشیر ڈاکٹر کرشنا مورتی سبرامنین کااظہار خیال

Dr. Krishna Murthy Subramanian.Picture :INN
چیف معاشی مشیر ۔ تصویر:آئی این این

معیشت کو رفتار دینے کیلئے  لوگوں کے ہاتھوں میں صرف نقدی پہنچانا کافی نہیں ہے بلکہ   اس بحران سے ابھرنے کیلئے لوگوں کو روزگار دینا ہوگا۔ مذکورہ اظہار خیال ایک انٹرویو میں حکومت کے چیف معاشی مشیر ڈاکٹر کرشنا مورتی  سبرامنین نے کیا ہے۔
  واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے خودکفیل ہندوستان کے تحت تیسرے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ اس  متعلق بات کرتے ہوئے چیف معاشی مشیر نے کہا کہ لوگوں کو نقدی دینے سے مانگ میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ  جونئے اعلان  کئے گئے ہیں اس سے روزگار کے مواقع دستیاب ہونے سے یقینی طور پر مانگ بڑھے گی ۔  اب یہ ضروری ہے کہ لوگوں کی آمدنی کو یقینی بنایا جائے۔ ٖ سبرامنین کے مطابق مینوفیکچرنگ اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ اب معیشت میں  بہتری ہورہی ہے۔اس کیلئے بھی حکومت کی تعریف کی جانی چاہئےکیو نکہ ہندوستان  پہلا ایسا ملک ہے جہاں ان مشکل  حالات کے دور میں بھی میوفیکچرنگ سیکٹر متاثر نہیں ہوا ہے۔  کورونا کے  سبب پیدا ہوئے بحران زدہ حالات  کے متعلق سبرا منین نے کہا کہ جب  فی فر دکی آمدنی کی  بات ہوتی ہے  تو  ہندوستان  نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمیں ہندوستان اور بنگلہ دیش کا موازنہ کرتے ہوئے صحیح اعداد شمار کا جائزہ لینا چاہئے۔ حکومت کی اصلاحات کی وجہ سے معیشت کے پرائمری اور سیکنڈری سیکٹروں میں تیزی آرہی ہے۔ اب حکومت کے مزید  اقدمات کے نتیجے میں مستقبل میں  روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور  تیزی سے مانگ بڑھنے سے معیشت دوبارہ  پٹری پر لوٹ آئے  گی ۔  واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی  مودی حکومت نے کورونا بحران کے سبب پٹری سے اتری معیشت کو دوبارہ رفتار دینے کے لئے ایک مرتبہ پھر آتم نربھرپیکیج  ۳ء۰؍اور کورونا کے حالات میںجن کی نوکری چلی گئی ان کے  لئے ’بھارت روزگار منصوبے‘ کا اعلان کیا  ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور وزیرمملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر نے  نئے پیکیج  میں ۱۲؍ منصوبوں کا اعلان کیا  کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ حالیہ اعداد و شمار معیشت میں بہتری کے اشارے دے رہے ہیں۔حالات اور بہتر ی کی جانب گامزن ہیں۔   ان دعووں کے باوجود ملک کی جی ڈی پی کے اعداد وشمار باعث تشویش ہے۔آر بی آئی  رپورٹ میںانکشاف ہواہےکہ ستمبر میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) میں ۸ء۶؍فیصد کی گراوٹ ہوئی ہے۔  اپریل سے جون سہ ماہی میں۲۳ء۹؍فیصد کمی ہوئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK