• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شاہ پور میں پینے کے پانی کا بحران ، ہزاروں آدیواسی خواتین جنگل جنگل بھٹکنے پر مجبور

Updated: February 05, 2026, 9:59 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

خواتین اور بچے روزانہ سروں پر ہنڈے اٹھائے پانی کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں،خواتین کی صحت کو نقصان ،بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر

A woman collecting water.
ایک خاتون پانی جمع کرتےہوئے۔

شاہ پور تحصیل کی ویہی گاؤں گرام پنچایت اور اس کے اطراف میں واقع متعدد آدیواسی بستیوں میں پینے کے پانی کا بحران خطرناک حد تک شدت اختیار کر چکا ہے۔ پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ہزاروں خاندانوں کو روزانہ کئی کلومیٹر کا پیدل سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ سب سے زیادہ بوجھ خواتین اور معصوم بچوں پر ہے ۔ انتظامیہ اور سرکاری مشینری کی طویل بے توجہی کے سبب شہری اپنے بنیادی حق پانی سے محروم ہیں۔ اسی پس منظر میں سماجی کارکن مالو ہمنے، پپو واگھ، پرکاش کھوڑکا اور دیگر نے اعلان کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو عالمی یومِ خواتین۸؍ مارچ کو شاہ پور پنچایت سمیتی دفتر پر ’ہنڈا مورچہ‘ نکال کر احتجاج کیا جائے گا۔
 شاہ پور تحصیل کے بیشتر دیہات میں کنویں، بورویل اور نل جل اسکیمیں مکمل طور پر خشک ہو چکی ہیں جبکہ کئی علاقوں میں ہفتے میں ایک مرتبہ بھی پانی فراہم نہیں کیا جاتا۔ شدید گرمی، آلودہ پانی اور قلت کے باعث خواتین اور بچوں میں جلدی امراض، کمزوری اور دیگر صحت کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ پانی بھرنے کے دوران خواتین کو طویل قطاروں، بھاری گھڑوں اور غیر محفوظ راستوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کیلئے مستقل خطرہ بن چکا ہے۔
  حیرت انگیز اور افسوسناک امر یہ ہے کہ انہی آدیواسی بستیوں کی گود میں اپر ویتارنا ڈیم واقع ہے جو ممبئی جیسے عظیم شہر کی پیاس بجھاتا ہے مگر ڈیم کے کنارے بسنے والی آبادی خود پینے کے پانی سے محروم ہے۔ آنکھوں کے سامنے لبالب پانی موجود ہونے کے باوجود پیاس سے تڑپنا انسانی اقدار پر سنگین سوال کھڑا کرتا ہے۔
 ہندوستانی آئین ہر شہری کو عزت و وقار کے ساتھ جینے کا حق دیتا ہے مگر ویہی گاؤں اور اطراف کی آدیواسی بستیوں میں یہ حق محض ایک دعویٰ بن کر رہ گیا ہے۔ روزگار کی تلاش میں مرد حضرات شہروں کا رخ کر لیتے ہیں اور پیچھے رہ جانے والی خواتین اور بچے روزانہ سروں پر گھڑے اٹھائے پانی کے لئے جنگ لڑنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف خواتین کی صحت کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ بچوں کی تعلیم بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
  حکومت کے جل جیون مشن کو شروع ہوئے پانچ برس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے مگر تیلم واڑی، ڈھوباچی واڑی، کاتوار واڑی اور بودھ واڑہ جیسی آدیواسی بستیوں میں جہاں ساڑھے تین ہزار سے زائد آبادی مقیم ہے، آج تک گھروں تک پانی نہیں پہنچ سکا۔ عوام کا الزام ہے کہ اسکیمیں کاغذوں میں مکمل دکھائی جا رہی ہیں، جبکہ زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔متاثرہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ٹینکروں کے ذریعے باقاعدہ  پانی سپلائی شروع کی جائے اور مستقل آبی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر نافذ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK