کھیل کود میں حصہ نہ لینے سےطلبہ جسمانی طور سےکمزور ،اسکول انتظامیہ فکرمند

Updated: September 16, 2022, 2:09 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

کورونابحران کی وجہ سے ڈھائی سال تک اسکول اورکالجوںمیں کھیل کودکےمقابلوں کا انعقاد نہیں ہوا۔اب بھی۵۰؍فیصد سے زیادہ طلبہ بھاگ دوڑکے کھیلوںمیں حصہ نہیں لے رہے ہیں

Still many students are not interested in sports.Picture:INN
اب بھی بہت سے طلبہ کھیل کود میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ تصویر:آئی این این

کورونابحران کی وجہ سے تقریباًڈھائی سال تک اسکول اورکالجوںمیں کھیل کودکےمقابلوں کا انعقاد نہ ہونے سے ۵۰؍فیصد سے زیادہ طلبہ اب بھی اسپورٹس میں حصہ نہیں لے رہےہیں جس سے وہ جسمانی طورپر سست اور کمزورہوگئے ہیں ۔اسی لئے اسکولوں کا انتظامیہ بچوں کی صحت کے تعلق سے فکرمند ہے۔ اندھیری کے تولانی کالج آف کامرس کے اسپورٹس ڈائریکٹر ڈاکٹر نثار حسین نے بتایاکہ ’’ کووڈ کی وجہ سے تقریباً ڈھائی سال تک طلبہ اسکول اورکالجوں سےد ورتھے۔ اس دوران آن لائن پڑھائی  سے وہ موبائل فون، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کے استعمال کے عادی ہوگئےہیں۔ان کا زیادہ تر وقت ڈیجیٹل اسکرین پر گزررہا ہے جس سےان کی صحت پر منفی اثر پڑرہاہے۔ آف لائن کالج سے دور ہونے سے وہ کھیل کود سے بھی دور رہے جس سے ان کی نشوونماکاعمل متاثرہواہے۔گھر میں بیٹھے بیٹھے وہ سست روی کا شکار ہوگئے ہیں۔  بھاگ دوڑ نہ ہونے سے ا ن میںجسمانی طورپر کمزوری آگئی ہے۔ حتیٰ کہ وہ بھاگ دوڑ کے کھیلوں  میں حصہ لینے سے بھی گریز کررہےہیں۔ کھیل کود میں شامل نہ ہونے سے ان کافزیکل آل رائونڈ ڈیولپمنٹ متاثر ہوا ہے۔‘‘ ایک سوال کےجواب میں انہوںنے بتایاکہ ’’میں یہاں رائفل اورپستول شوٹنگ، جوڈو ، باکسنگ، فٹ بال ، ٹیبل ٹینس ، کیرم ، شطرنج اور تھرو بال کی ٹریننگ دیتا ہوں۔ ان کھیلوںمیں ہر سال تقریباً ڈھائی تا ۳۰۰؍ طلبہ حصہ لیتے تھے مگر کورونابحران کی وجہ سے طلبہ ان کھیلوں سے دور ہوگئے ہیں اوراس میں ان کی دلچسپی کم ہوگئی ہے۔ چند دن قبل ہی ٹیبل ٹینس میں حصہ لینے کیلئے نوٹس دیا گیا ہے ۔پہلے اس کھیل میں تقریباً ۵۰؍ طلبہ حصہ لیتے تھے مگر امسال صرف ۸؍ طلبہ نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ ڈھائی سال تک کھیل کود بندہونے سے طلبہ کا بڑا نقصان ہواہے تو غلط نہ ہوگا۔ بھاگ دوڑکے کھیلوں میں شامل ہونے والے طلبہ ان میں شریک ہونے سے گریز کر رہے ہیںکیونکہ ان میں سستی اور کمزوری آگئی ہے۔‘‘ انجمن اسلام اکبر پیر بھائی کالج کے اسپورٹس ٹیچر رضوان بشیر شاہ نے بتایاکہ ’’ کورونابحران سے اسپورٹس میں حصہ لینے والے طلبہ کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہوا ہے کہ وہ اپنی پرفارمینس کے معاملے میں ۲؍سال پیچھے ہوگئے ہیں۔ جو طلبہ مختلف مراحل سے گزر کرڈسٹرکٹ ، اسٹیٹ اورنیشنل لیول پر پہنچتےہیں ، وہ ۲؍سال تک ٹورنامنٹ  نہ ہونے سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ سچ ہےکہ کھیل کود سے دور ہونے کےسبب طلبہ کا نقصان ہواہے مگر ہمارے کالج کے طلبہ میں کھیل کودسے متعلق وہی جذبہ اور لگن موجود ہے جو کورونا بحران سے قبل تھا۔ یہ دیکھ کر اطمینان ہوتاہے۔‘‘ ممبئی کھوکھوسنگھٹنا کے سیکریٹری سریندر وشکرمانے بتایا کہ ’’صحت مند زندگی کیلئے اسپورٹس میں حصہ لینا ضروری ہے۔ جو کھیل کود میں حصہ لے گا، وہ ہمیشہ صحت مند رہےگا۔ بیماری کو مات دینےکیلئے کھیل کودمیں بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہئے لیکن کورونابحران سے طلبہ کا بڑا نقصان ہوا ہے۔ اسی لئے میں نے اس دوران بھی اپنی سرگرمی جاری رکھی تھی۔ حالانکہ پولیس نے مجھے پریشان کیاتھا مگر میں نے کووڈ۱۹؍ کے تمام ضابطوں پر عمل کرکے بچوںکو کھوکھو سکھانےکا عمل جاری رکھا تھا جس کی وجہ سے میرے کلب کے ۸۰ ؍ طلبہ اب بھی چاق و چوبندہیں لیکن جو طلبہ کورونابحران کےدوران کھیل کود سے دور رہے، وہ سست روی اور کمزوری کا شکار ہیں۔‘‘  ہاشمیہ ہائی اسکول محمد علی روڈ کے پی ٹی ٹیچر اکرم شیخ نے بتایاکہ ’’  وباء سے پڑھائی کے ساتھ ساتھ اسپورٹس میں بھی طلبہ کا بڑا نقصان ہواہے۔ اس کےعلاوہ موبائل فون اور ڈیجیٹل گیم نے بھی طلبہ کو کھیل کود کے میدان سے دور کردیا ہے۔ موبائل گیم کھیلنے کی عادت کی وجہ سے طلبہ کو میدان میںکھیل کود سے دلچسپی نہیں رہ گئی ہےجو ان کی صحت کیلئے سخت نقصان دہ ثابت ہورہاہے لہٰذا طلبہ میں کھیل کود کا جذبہ پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس جانب والدین کو بھی توجہ دینا چاہئے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK