پی پی پی ماڈل کے نام پر ۶؍ اسکولوںکو ۳۰؍ برسوں کیلئے نجی تنظیموں کے حوالے کیا جارہا تھا، ان اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کے والدین اور سرپرستوں نےبھی اعتراض کیا تھا
درگا دیوی اسکول کو بچانے کیلئے آدتیہ ٹھاکرے کا احتجاج( فائل فوٹو)۔ تصویر: آئی این این
اپوزیشن، برسراقتدار سیاسی پارٹیوں اور والدین کی مخالفت کی بنیاد پر بوہری محلہ اور جمعہ بازار کے قریب کمبھار واڑہ میں واقع دُرگا دیوی اردو اور مراٹھی اسکول کی نجکاری کا ٹینڈر منسوخ کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بی ایم سی نے دسمبر ۲۰۲۵ء میں ایک متنازع پالیسی متعارف کرائی تھی جس کے تحت ’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ‘ (پی پی پی) ماڈل کی بنیاد پر بی ایم سی کی ۶؍ اسکولوںکو نجی تنظیموں کے حوالے کیا جانا تھا اور یہ تنظیمیں ان اسکولوں کو چلانے والی تھیں۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں سیاستدانوں اور متذکرہ اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کے والدین اور سرپرستوں نے اس پالیسی کی مخالفت شروع کردی۔ اس کے باوجود بی ایم سی نے اپریل ۲۰۲۶ء میں ان اسکولوںکو چلانے کے لئے غیرسرکاری تنظیموں کے حوالے کرنے کا ٹینڈر جاری کردیا تھا۔
ماہرین نے اس اسکیم کی جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے ان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ نجکاری کے بعد ان اسکولوں میں محض ۲۵؍ فیصد سیٹیں ہی ’رائٹ ٹو ایجوکیشن‘ (آر ٹی ای) کے تحت مفت تعلیم کیلئے باقی رہیں گی۔
تاہم برسر اقتدار اور اپوزیشن تمام سیاسی پارٹیوں اور والدین کی مخالفت کی وجہ سے شہری انتظامیہ نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے متذکرہ فیصلے پر نظر ثانی کی اور پھر بالآخر اکتوبر میں اس پالیسی پر روک لگادی گئی۔ تاہم اس دوران ۶؍ میں سے ۵؍ اسکولوں کیلئے تنظیموں کا انتخاب ہوچکا تھا صرف چھٹی اسکول کی نجکاری باقی تھی۔واضح رہے کہ اس اسکیم کے تحت تمام ۶؍ اسکول ۳۰؍ برسوں کیلئے نجی اداروں کے حوالے کئے جارہے تھے۔کمبھار واڑہ میں واقع دُرگا دیوی اردو اور مراٹھی اسکول کی عمارت کو انتہائی مخدوش قرار دیتے ہوئے ’سی۔۱‘ زمرے میں شامل کرلیا گیا تھا اور یہاں زیر تعلیم طلبہ کو تحفظ کے پیش نظر انہیں دیگر اسکولوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔والدین، سرپرستوں اور مقامی افراد کا مطالبہ تھا کہ نجی اداروں کو دینے کے بجائے بی ایم سی اس عمارت کی از سر نو تعمیر کرے اور خود ہی اسکول چلائے۔
بہر حال درگا دیوی اسکول کی نجکاری کا ٹینڈر منسوخ ہونے پر شیوسینا (ادھو) کے لیڈر آدتیہ ٹھاکرے نے جمعہ کو ایکس پر کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے پوسٹ کیا تھا کہ کمبھار واڑہ درگادیوی میونسپل اسکول کو پی پی پی ماڈل کے تحت نجی ادارے کے حوالے کرنے کی کوشش کو ناکام بنادیا گیاہے۔ انہوں نے یہ بھی تحریر کیا کہ ’’ہم بی ایم سی اسکولوں کی ایک اِنچ جگہ بھی نجی بلڈروں کو نہیں لینے دیں گے۔ ہم بی جے پی کو ممبئی کو فروخت نہیں کرنے دیں گے۔‘‘
نجکاری کیلئے منتخب اسکولوں کے نام
نجکاری کیلئے منتخب کی گئی اسکولوں کے نام کنیا شالہ (ملاڈ)، ماہم بی ایم سی اسکول، ایم ایچ بی اردو اسکول (ملاڈ)، واکولہ بی ایم سی اسکول، ٹھاکر ولیج بی ایم سی اسکول اور درگا دیوی اردو اور مراٹھی اسکول۔