میٹنگ بلائی گئی،عدالت کی ہدایت کا حوالہ دیا ۔ ٹرسٹیان کی ناراضگی۔لاؤڈاسپیکر کی اجازت دینے میںپولیس کی آنا کانی ۔صوتی آلودگی کا جواب دینے کی تیاری
مسجد حضرت علی ٹرسٹ کے سربراہ محمد جمیل مرچنٹ آواز کی پیمائش والا آلہ دکھاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
پولیس نے پھر نوٹس جاری کرکے ۳؍ دن میں مساجد سے لاؤڈاسپیکر ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔اس تعلق سےپولیس اسٹیشن میںمیٹنگ بھی بلائی گئی تھی ۔ اس میں یاددہانی کرائی گئی کہ عدالت کی ہدایت کے مطابق صوتی آلودگی پیدا نہ ہو۔میٹنگ میں مہاڈا کی طیبہ مسجد سے آنے والے نمائندوں نے پولیس کےرویےپر ناراضگی ظاہر کی کہ پولیس بھید بھاؤ کررہی ہے۔ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھی نوٹس دیا گیا تھا۔طیبہ مسجد کے نمائندوں نے پولیس سے سوال کیا کہ بار بار نوٹس جاری کیا جارہا ہےکیا وسرجن کے دوران شورشرابہ کم تھا، کیا پٹاخے سے صوتی اور فضائی آلودگی نہیں ہوتی ہے، کیا ایسے لوگوں کو بھی نوٹس دیا گیا؟ اس پر پولیس کاجواب تھا کہ شکایت ملنے پرکارروائی کی جاتی ہے۔مالونی مہاڈاجامع مسجد کےصدرسلیم عبدل شیخ نے کہا کہ’’ یہ مذاق بن گیا ہے، آئے دن نوٹس جاری کیا جاتا ہے اور لاؤڈ اسپیکر اتارنے پر زور دیا جاتا ہے جبکہ ڈیسیبل کاپورا خیال رکھا جارہا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ پولیس بالقصدمسلمانوں کو نشانہ بنارہی ہے ۔‘‘
ہم بھی تیاری کررہے ہیں
مسجد حضرت علی کے ذمہ دار اورمرچنٹ فاؤنڈیشن کے سربراہ محمد جمیل مرچنٹ نے نمائندۂ انقلاب کو پولیس کا نوٹس دکھایا۔ اس میں لاؤڈ اسپیکر اتارنے اور شکایت ملنے کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ سینئر انسپکٹررانی پوری کی دستخط سے جاری کردہ نوٹس میںڈاکٹر مہیش بیڈیکرکی جانب سے ۲۰۱۰ء میں مہاراشٹر حکومت کے خلاف داخل کردہ مفاد عامہ کی عرضی میںعدالت کے حکم اورپولیس کمشنر کی ہدایت کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس پرمحمدجمیل مرچنٹ نے کہاکہ’’ ہم نے بھی آواز کی پیمائش کا آلہ منگوایا ہےتاکہ اپنے طور پر بھی ریکارڈ رکھیں اور اس بنیاد پر قانونی طور پرمعاملے کو آگے بڑھایا جاسکے۔‘‘
مساجد کے ٹرسٹیان نے انقلاب کو اپنا ریکارڈ دکھایا کہ وہ باقاعدگی سے لاؤڈاسپیکرکی اجازت لیتے ہیں مگر ادھر کچھ وقت سے پولیس ٹال مٹول کررہی ہے ،کہہ رہی ہے کہ جلد ہی حکومت کی نئی گائیڈ لائن جاری کی جانے والی ہے۔