• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کینسر میں مبتلا ڈچ پروفیسر کا موت کے بعد لیکچر کیلئے اپنا اے آئی ورژن تخلیق

Updated: November 01, 2026, 3:05 PM IST | Amsterdam

لاشعوری کینسر میں مبتلا ڈچ پروفیسر نے موت کے بعد لیکچر دینے کے لیے اپنااے آئی ورژن بنا لیا، جان روٹمینز اپنی کتابوں، سائنسی اشاعتوں اور لیکچرز پر تربیت یافتہ ڈیجیٹل جڑواں کے ذریعے اپنا علم محفوظ رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مقامی میڈیا نے سنیچر کو رپورٹ کیا کہ لاشعوری کینسر میں مبتلا ڈچ پروفیسر جان روٹمینز اپنے علم کو محفوظ رکھنے اور موت کے بعد لیکچر دینے کے لیے اپنا مصنوعی ذہانت کا ورژن تیار کر رہے ہیں۔۶۵؍ سالہ ٹرانزیشن اسٹڈیز کے پروفیسر نے کہا کہ ان کا ڈیجیٹل جڑواں ان کی کتابوں، سائنسی اشاعتوں اور ریکارڈ شدہ لیکچرز کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیا جائے گا ۔پہلا آن لائن ورژن۲۰۲۶ء کے آخر تک دستیاب ہونے کی توقع ہے، جس میں بالآخر ایک ہولوگرام تیار کرنے کا منصوبہ ہے جو اسٹیج پر ظاہر ہونے کے قابل ہو۔روٹمینز نے کہا کہ ڈیجیٹل ورژن بنانے میں مدد کے لیے ان کی آواز، تصویر اور چہرے کے تاثرات کی ریکارڈنگ پہلے ہی کی جا چکی ہے۔یہ منصوبہ اسٹوڈیو دی سنتھس تیار کر رہا ہے، جس نے اس سے قبل سابق ڈچ فٹبالر روڈ گلیٹ کی ڈیجیٹل مشابہت بنائی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: بھویتا منداوا اور محمد رضوان، انسٹاگرام رنگز ایوارڈز کے ۲۵؍عالمی فاتحین میں شامل

واضح رہے کہ روٹمینز، جو تقریباً دو سال سے میٹاسٹیٹک پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہیں، نے کہا کہ ان کی حالت مستحکم ہے اور حالیہ طبی نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں۔جبکہ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ وہ اپنے اے آئی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کر سکیں گے اور اس کے جوابات سے سیکھ سکیں گے۔تاہم، پروفیسر نے ٹیکنالوجی کی حدود کو تسلیم کیا، بشمول اس امکان کے کہ یہ غلط معلومات یا بیانات پیدا کر سکتی ہے جن کی وہ توثیق نہیں کریں گے۔بعد ازاں انہوں نے کہا کہ دستیاب کیے جانے سے پہلے سسٹم کی وسیع جانچ کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: درجنوں افغانوں کو ملک بدر کرنے پرغور، امدادی تنظیموں کا سنگین نتائج کا انتباہ

اے آئی ماہر نے خطرات سے خبردار کیا
ریڈباؤڈ یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کی پروفیسر آئرس وین روئیج نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ناپسندیدہ پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے ڈیجیٹل ماڈلز کے ساتھ بات چیت کرنے والے لوگ غلطی سے مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں انسانی خصوصیات، بشمول جذبات اور ذہانت کو منسوب کر سکتے ہیں۔تاہم، روٹمینز نے زور دیا کہ ڈیجیٹل جڑواں کا مقصد ذاتی طور پر ان کی جگہ لینا نہیں ہے بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ان کا علم آنے والی نسلوں کے لیے قابل رسائی رہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس منصوبے سے وابستہ ممکنہ خطرات کو قبول کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ دیگر محققین بھی اسی طرح کے اقدامات کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK