امریکہ یہ ضمانت دے کہ وہ آئندہ جوہری معاہدےکو نہیں توڑے گا

Updated: September 24, 2022, 11:44 AM IST | Agency | Tehran

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا جنرل اسمبلی سے خطاب، آئی اے ای اے سےتہران میں نیوکلیئر پلانٹ کے معائنے بند کرنے کا بھی مطالبہ

Iranian President Ebrahim Raisi  has put pressure on America .Picture:INN
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے امریکہ پر دبائوبنا رکھا ہے ۔ تصویر:آئی این این

 ایران نے کہا ہے کہ اسے ۲۰۱۵ءکے جوہری معاہدے کی بحالی میں تب تک کوئی فائدہ نظر نہیں آتا جب تک امریکہ یہ ضمانت نہ دے کہ وہ دوبارہ اس معاہدے سے الگ نہیں ہو گا اور اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار تہران کے جوہری پروگرام کے معائنے بند نہیں کر  دیتے۔ ایران کے اس موقف کو امریکی عہدیدار نے غیر معقول قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ اطلاع کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تعطل پر قابو پانے کی کوششوں میں ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئےایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ان یقین دہانیوں کے بغیر کہ امریکہ دوبارہ خلا ف ورزی نہیں کرے گا، ایک معاہدے کی بحالی کا کیا فائدہ؟اس سے قبل منگل کو رئیسی کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا تھا کہ کسی جوہری معاہدے تک پہنچنے کیلئے اب گیند تہران کے کیمپ میں ہے۔  ابراہیم رئیسی نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں معاہدے کے یورپی فریقوں اور امریکہ کو اس کی بحالی میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ’’ اگر یہ تحقیقات ختم نہیں ہوتیں تو ہم کوئی مستقل معاہدہ کیسے کر سکتے ہیں؟ ہم اسی صورت میں ایک اچھا معاہدہ کر سکتے ہیں اگر امریکی اور یورپی فریق اپنے وعدے پورے کرتےہیں۔‘‘واضح رہے کہ اس ضمانت کے علاوہ ، عالمی جوہری  ادارے (آئی اے ای اے)،اقوام متحدہ کے نگران ادارے کی جانب سے ایران کی تین غیر اعلان شدہ تنصیبات پر یورینیم کی غیر واضح افزودگی کی تحقیقات روکنے کا بھی خواہاں ہے۔ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدے دار نےصحافیوں سے گفتگو میں آئی اے ای اے پر ان تحقیقات کو اسوقت تک  بند کرنے کیلئے دباؤ کو مسترد کر دیا جب تک ایران اطمینان بخش جواب نہیں دے دیتا۔ عہدےدار کے مطابق `وہ ہم پر اور یورپی ملکوں پر آئی اے ای اے اور اس کے ڈائریکٹر جنرل پر یہ دباؤ ڈالنے کیلئے کہہ رہے ہیں کہ ان تحقیقات کو بند کر دیا جائے، مگر ہم ایسا نہیں کریں گے۔ہم آئی اے ای اے کی خود مختاری اوردیانت کا احترام کرتے ہیں۔ 
 خیال رہے کہ ایران اور امریکہ کےدرمیان کئی مہینوں کے بالواسطہ مذاکرات میں بائیڈن انتظامیہ مارچ میں معاہدہ بحال کرتے دکھائی دی تھی، لیکن بات چیت کا یہ عمل بعض رکاوٹوں کے باعث منقطع ہو گیا تھا کیوں کہ ایران کا یہ مطالبہ چلا آ رہا ہے کہ امریکہ یہ ضمانت دے کہ کوئی امریکی صدر معاہدے سے دستبردار نہیں ہوگا۔جبکہ بائیڈن ایسی ضمانت فراہم نہیں کر سکتے کیونکہ معاہدہ ایک سیاسی افہام و تفہیم ہے نہ کہ قانونی طور پر پابند کوئی معاہدہ ۔  یاد رہے کہ ۲۰۱۵ء میں بارک اوبامہ نے عالمی طاقتوں کی نگرانی میں ایران سے معاہدہ کیا تھا جسے ۲۰۱۸ء میں ڈونالڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا اور ایران پر پابندیاں لگا دی تھیں جس کی وجہ سے ایران پہلے اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ آئندہ ایسی وعدہ خلافی نہ ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK