• Sun, 06 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وزیر تعلیم دادا بھُسے کے اختیارات کم کئے گئے

Updated: September 06, 2026, 10:48 AM IST | Mumbai

یوم اساتذہ کے موقع پر وزیر تعلیم کو جھٹکا، غیر ا مدادیافتہ اورپرائیویٹ اسکولوں کے تعلق سے فیصلوں کا اختیارمحکمہ تعلیم کے سیکریٹری اور ایجوکیشن کمشنر کو سونپا گیا، یہ فیصلہ ریاستی حکومت کا بتایا گیا ہے لیکن دادابھُسےکاکہنا ہےکہ انہوں نےخودیہ اختیارات افسران کوسونپے ہیں۔

State Education Minister Dada Bhuse will not be able to take decisions on many issues. Photo: INN
ریاستی وزیر تعلیم دادا بھسےاب بہت سے امور پر فیصلے نہیں کرسکیں گے۔ تصویر: آئی این این

وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نےایک اہم فیصلہ کرتے ہوئےاسکولی تعلیم کے وزیر دادا بھُسے کے اختیارات کم کردئیےہیں۔ وزیرتعلیم دادا بھُسےکی جگہ اب محکمۂ تعلیم کے سیکریٹری اورایجوکیشن کمشنر کو اسکولوں بالخصوص پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے بارے میں انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار دیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ دادا بھُسے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے قریبی سمجھے جاتے ہیں، اس لئے ان کے اختیارات میں کمی کو شندے کیلئے بھی جھٹکا قراردیا جارہاہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے وزیر تعلیم کے اختیارات اس دن کم کئے جبکہ ریاست اور ملک بھر میں یوم اساتذہ منایاجا رہا تھا۔ اب نئے پرائیویٹ اسکول یا کسی پرائیویٹ اسکول کی نئی شاخ کھولنے کودادا بھسے منظوری نہیں دے سکیں گے بلکہ یہ اختیار سیکریٹری، ایجوکیشن کمشنر یا محکمہ تعلیم کے دیگر افسران کوحاصل ہوگا۔ 
وزیر کے بجائے سیکریٹری کو اختیار دیا گیا
ایک اہلکار نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی شہر کاری(اربنائزیشن) اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اسکولوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ ریاست میں غیر امداد اسکولوں کی تعداد نمایاں طور پر بڑھ رہی ہے، اور انگلش میڈیم اسکولوں کی تعدادمیں ا ضافہ ہورہا ہے۔ اس پس منظر میں پرائیویٹ اسکولوں سے متعلق فیصلے کا اختیار اب وزیر کے بجائے سیکریٹری کو دے دیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کے انتظامی کام کو بہتر بنانے اور تیز کرنے کے لیے اسکولی تعلیم کے وزیر کے اختیارات کو کم کر دیا گیا ہے۔ 
تاہم اسکولی تعلیم کے وزیر دادا بھوسے نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر یہ فیصلہ جلد بازی سے بچنے اور کام کے آرام دہ ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے کیا ہے۔ وزیر دادا بھُسے نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر محکمہ کے سیکریٹری اور ایجوکیشن کمشنر کو ضروری اختیارات سونپنے کا فیصلہ کیا ہے، جیسے پرائیویٹ اسکولوں میں اضافی یونٹس اور شاخوں کو منظوری دینا، سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای جیسے مختلف بورڈز کی طرف سے پیش کردہ کورسیز کیلئے نو آبجکشن سرٹیفکیٹ (این اوسی) جاری کرناوغیرہ۔

یہ بھی پڑھئے: دودھ مہنگا ہونے سے چائے بھی مہنگی مگرشوقین افراد پر زیادہ اثر نہیں پڑا

فیصلے کو سیاسی قراردیاجارہاہے 
حکومت کے اس فیصلے کی کئی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔ جن وجوہات کا حوالہ دیا گیا ہےان کا تعلق ۲۰۴۷ء تک مہاراشٹرکوترقی یافتہ بنانے کے ہدف، ۱۰۰؍ فیصد ای گورننس اور انتظامی کاموں کو تیز کرنے سے متعلق ہے۔ تاہم اس فیصلے کو زیادہ سیاسی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کروچ جنتا پارٹی کے دباؤ کو بھی وجہ بتایاجارہا ہے۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دِپکے باقاعدگی سے ریاست بھر کے اسکولوں کا دورہ کر رہے ہیں، سہولیات کا معائنہ کر رہے ہیں ۔ مہاراشٹرکے دیہی سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی پردادا بھُسے کاکروچ جنتا رپارٹی کے نشانے پر تھے اور ابھیجیت دپکے مسلسل ان کے ا ستعفے کا مطالبہ کررہے تھے۔ 
کولہاپور میں اساتذہ کا مارچ
۵؍ ستمبر کو ملک بھر میں منائے جارہے یوم اساتذہ کے موقع پر یہاں سیکڑوں کی تعداد میں اساتذہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے نظر آئے۔ پرانی پنشن اسکیم نافذکرنے کے اہم مطالبےکے ساتھ اساتذہ نے ضلع کلکٹر آفس تک مارچ نکالا۔ یہ مارچ دسہرہ چوک سے شروع ہو کر ضلع کلکٹر کے دفتر پہنچا۔ مارچ کے دوران ا ساتذہ چہروں پر سیاہ ماسک لگائے ہوئے تھے اورپلے کارڈ اٹھارکھا تھا۔ اساتذہ کی تنظیموں کےلیڈران اور کارکنان نے بڑی تعدادمیں مارچ میں شرکت کی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK