گیس اور شکر کے بعد دودھ کی قیمت میں۹؍روپے فی لیٹر کااضافہ۔ ہوٹلوں میں چائے کی قیمتیں ۳؍سے ۱۰؍روپے بڑھیں ۔ ۱۲؍ سے۱۵ ؍روپے والی چائے ۱۸؍ سے ۲۵؍روپے ہوگئی۔ شہریوںکاملاجلا ردعمل۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 2:10 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
گیس اور شکر کے بعد دودھ کی قیمت میں۹؍روپے فی لیٹر کااضافہ۔ ہوٹلوں میں چائے کی قیمتیں ۳؍سے ۱۰؍روپے بڑھیں ۔ ۱۲؍ سے۱۵ ؍روپے والی چائے ۱۸؍ سے ۲۵؍روپے ہوگئی۔ شہریوںکاملاجلا ردعمل۔
گیس اور شکر کے بعد منگل سے دودھ کی قیمت میں اضافہ ہونے سے شہرومضافات کے ہوٹلوںمیں چائے کی قیمتیں تقریباً ۳؍سے ۱۰؍روپے بڑھ گئی ہے۔ ۱۲؍ سے۱۵ ؍ روپے والی چائے ۱۸؍ سے ۲۵؍روپے ہوگئی ہے ۔ چائے کی قیمتیں بڑھنے پر چائے کے شوقین افراد کا ردعمل ملاجلا رہا جبکہ ہوٹل مالکان کے مطابق جو چائے کے شوقین ہیں، وہ قیمت بڑھنے کے باوجود چائے پینے آ رہے ہیں۔
مومن پورہ میں واقع چشمہ شاپ نامی دکان کے مالک اسلم انصاری نے بتایا کہ ’’ ہمارے علاقے کی ہوٹلوں میں ۱۵؍روپے والی چائے ۲۰؍روپے ہوگئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں نے چائے پینے اور پلا نے کے معاملے میں احتیاط برتنا شروع کر دیا ہے ۔ عموماً دکان پر آنے والے گاہکوں اور دوست و احباب کو چائے پلائی جاتی تھی لیکن اب متعلقین نے خود چائے پینے سے اجتناب کرنا شروع کر دیا ہے ۔ پہلے ۲؍ چائے میں ۳؍لوگ پی لیتے تھے ، اب ۴؍لوگ پینےکی کوشش کر ر ہے ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: افغانستان: گزشتہ سال دولاکھ تین ہزار سے زائد ویزے جاری کیے گئے: سرکاری ترجمان
چرنی روڈ پر واقع وائس آف انڈیا ریسٹورنٹ کے مالک معظم دبیر نے بتایا کہ ’’ صرف دودھ کی وجہ سے چائے کی قیمت نہیں بڑھائی گئی ہے بلکہ گیس اور شکر کی بڑھتی قیمتوں کا بھی چائے کی قیمت پر اثر پڑا ہے ۔ان اشیاء کی قیمتوں کے بڑھنے سے ہماری ہوٹل میں جو چائے ۱۷؍روپے تھی ، وہ اب ۲۲؍روپے ہوگئی ہے ۔ اسی طرح اسپیشل چائے کی قیمت میں بھی ۵؍روپے کا اضافہ ہوا ہے ، ۳۵؍ روپے کے بجائے ۴۰؍روپے میں اسپیشل چائے مل رہی ہے ۔‘‘
بیلاسس روڈ پر واقع عربیہ ہوٹل کے مالک حمزہ خالد کے مطابق ’’چائے کی قیمتوں کا انحصار ہوٹل کے علاقے اور اس کی لذت پر ہے ۔ ایران اور اسرائیل کےدرمیان ہونے والی جنگ کے دوران گیس کی قلت ہونے پر بھی ہم نے چائے کی کوالیٹی اور اس کی فراہمی کو برقرار رکھا تھا ۔ اس دور میں متعدد ہوٹلیں اور چائے کی دکانیں بند ہوگئی تھیں ،جس کی وجہ سے ہماری ہوٹل پر چائے پینے والی کی کافی بھیڑ ہوتی تھی۔ اس وقت بھی ہم ریگولر قیمت پر چائے فراہم کر ر ہےتھے لیکن بڑھتی بھیڑ کو کم کرنے کیلئے چائے کی قیمت ۲۰؍ سے بڑھا کر ۲۵؍روپے کر دی تھی ۔ وہی قیمت آج بھی ہے لیکن جس طرح سے گیس، شکر اور دودھ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ، مستقبل میں چائے کی قیمت میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ ‘‘ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’چائے کی قیمت کتنی بھی بڑھ جائے ،شوقین چائے پیناکم نہیں کریں گے، یہ ہمارا تجربہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: این ای ٹی امتحان میں مالیگائوں کے انعام الرحمٰن کا کارنامہ
بھنڈی بازار پر واقع کوثر ہوٹل کے مالک امان اللہ عباس کے مطابق ’’ گیس اور شکر کی قیمتوں کے بعد دودھ کی قیمت میں ۹؍ روپے کا اضافہ ہونے سے ہم نے بھی چائے کی قیمت ۱۵؍روپے سے بڑھا کر ۱۸؍روپے کر دی ہے۔ ہمارے ہاں روزانہ ۲۰؍ سے ۲۵؍ لیٹر دود ھ کی چائے بنائی جاتی ہے ۔ ہم نے ۲، ۳؍ دن پہلے ہی قیمت بڑھا ئی ہے ۔ ہمارے صارف معمول کے مطابق چائے پینے کیلئے آ رہے ہیں۔‘‘
مورلینڈ روڈ پر واقع اوٹا والا ہوٹل میں بھی یکم ستمبر سے چائے کی قیمت میں ۵؍روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہاں جو چائے ۱۵؍ روپے میں مل رہی تھی ،اب ۲۰؍روپے ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایم پی ایس سی پیپر لیک معاملہ میں بالآخر ریتوجا پاٹل کو گرفتار کر لیا گیا
قیمت بڑھنے پر چائے پینے اور پلانے کے شوقین اب کیا کہہ رہے ہیں؟
بائیکلہ کےرہنے والے آصف پلاسٹک والا نے بتایا کہ ’’ مجھے چائے پینے کا شوق ہے۔ روزانہ ۸؍سے ۱۰؍چائے پیتا ہوں۔ ملاقات کیلئے آنے والوں کو چائے پلانا میرا شوق ہے لیکن اب خود بھی چائے پینا کم کر رہا ہو ںاور متعلقین سے یہ کہنا بھی بند کر دیا ہے کہ ’چلو چائے پیتے ہیں ۔چائے کی قیمت میں اچانک کم ازکم ۵؍روپے کا اضافہ ہونے سے اس شوق کو مارنے کی نوبت آگئی ہے ۔‘‘
ممبرا میں رہائش پزیر اسرار احمد نے بتایا کہ ’’منگل کو ممبرا کے ایک ہوٹل میں چائے پینے کیلئے گیا لیکن ہوٹل والے نے چائے دینے سے انکار کر دیا، وجہ دریافت کرنے پرکچھ نہیں بتایا، صرف یہ کہا کہ چائے نہیں ہے جبکہ یہاں چائے موجود تھی ۔ ذرائع سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ چائے کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے یہاں چنندہ لوگوں کو ہی چائے دی جا رہی ہے۔ ہوٹل والے کی یہ منطق سمجھ میں نہیں آئی ۔‘‘