نیٹو اور غیر ملکی سفارتی مشن کی طرف سے طالبان کو ’عید ‘ کی دہائی

Updated: July 20, 2021, 12:26 PM IST | Agency | Kabul

؍ ۱۵؍ ممالک کے نمائندوں کے دستخط کردہ بیان میں طالبان سے جنگ بندی کے ذریعے سنجیدگی ظاہر کرنے کی اپیل

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

 افغانستان کی راجدھانی کابل میں موجود غیرملکی سفارتی مشن اور نیٹو کے غیر فوجی نمائندوں نے طالبان سے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عید پر طالبان ہتھیار رکھ کر دنیا کو امن عمل سے اپنی وابستگی ظاہر کریں۔اطلاع کے مطابق کابل میں نیٹو اہلکار  اور ۱۵؍ ممالک کے سفارتی عملوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’’طالبان اس عید پر جنگ بندی کا اعلان کرکے  ثابت کردیں گے کہ وہ امن عمل میں کتنے سنجیدہ ہیں۔‘‘
 مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’’ ایک طرف امن مذاکرات کی حمایت کرنا اور دوسری جانب جارحیت جاری رکھنا دو متضاد باتیں ہیں۔‘‘ اس مشترکہ  بیان میں آسٹریلیا، کینیڈا، جمہوریہ چیک، ڈنمارک، یورپی یونین کے وفد، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، کوریا، نیدرلینڈ، اسپین، سویڈن، برطانیہ، امریکہ اور نیٹو کے سینئر غیر فوجی نمائندوں کے دستخط تھے۔
   واضح رہے کہ  طالبان کا امن معاہدہ امریکہ کے ساتھ ہوا ہے افغان حکومت کے ساتھ نہیں جس کی رو سے   طالبان اور امریکی فوج ایک دوسرے پر حملے نہ کرنے کے پابندی ہیں ۔ افغان حکومت کو طالبان نے کبھی تسلیم ہی نہیں کیا۔  ایسی صورت میں ان کے اوپر افغان حکومت کو ہٹا کر ملک پر قبضہ کرنے کی معاہدے کی رو سے کوئی ممانعت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو انہیں روک نہیں پا رہے ہیں۔ 
  اس دوران  غیر متوقع طور پر روس نے امریکہ  کو طالبان پر نظر رکھنے کیلئے اپنے بیرونی فوجی اڈے استعمال کرنے کی پیش کش کی ہے۔ روس اپنے ماسکو کے فوجی اڈے امریکہ کو دے سکتا  ہے۔روسی صدر ولادیمیر پوتین کے مطابق انہوں نے مذکورہ تجویز گذشتہ ماہ جینیوا میں  امریکی صدر جو بائیڈن کو پیش کی تھی۔  پوتن نے مطلوبہ معلومات جمع کرنے کیلئے کرغستان اور تاجکستان میں فوجی اڈے استعمال کرنے کی بھی پیش کش کی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK