Updated: September 30, 2026, 4:07 PM IST
| Paris
ایفل ٹاور کو چلانے والی کمپنی کے سربراہ پیٹرک برانکو روئیوو ہندو مذہبی گروپ کے دورے کے دوران خواتین ملازمین کو نظروں سے دور رکھنے کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد سال کے آخر میں عہدہ چھوڑ دیں گے۔ داخلی تحقیقات میں دورے کے انتظامات میں خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
ایفل ٹاور کو چلانے والی کمپنی کے سربراہ پیٹرک برانکو روئیوو اس سال کے اختتام پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ یہ فیصلہ ایک ہندو مذہبی گروپ کے دورے کے دوران خواتین ملازمین کو نظروں سے دور رہنے کی ہدایت دینے کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد کیا گیا ہے۔ ایفل ٹاور آپریٹنگ کمپنی (Sete) نے منگل کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ پیٹرک برانکو روئیوو سال کے آخر میں اپنی ذمہ داری چھوڑ دیں گے۔ یہ فیصلہ اس معاملے کی داخلی تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے کہ ستمبر کے اوائل میں بوچاسانواسی اکشر پرشوتم سوامی نارائن سنستھا (BAPS) کے روحانی گروپ کے دورے کے دوران ٹاور انتظامیہ نے خواتین ملازمین کو نظروں سے دور رہنے کا حکم کیوں دیا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں عملے نے ہڑتال کی اور بڑے پیمانے پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ Sete نے اپنے بیان میں کہا کہ تحقیقات میں سرکاری دوروں کی منصوبہ بندی اور ۵؍ ستمبر کے دورے کے انتظامات میں کئی مسائل اور خامیوں کا انکشاف ہوا، جن کے باعث دورے کے دن خواتین ملازمین کو الگ رکھا گیا۔ کمپنی کے مطابق اس سے ایک ’’ناقابل قبول صورتحال‘‘ پیدا ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’وزیر دفاع بنا تو یحییٰ سنوار سمیت تمام فلسطینی شہداء کی لاشیں جلادوں گا‘‘
خواتین ملازمین کو الگ رکھنے کے فیصلے کے خلاف عملے نے ایک روزہ ہڑتال کی، جس کے باعث ایفل ٹاور بند کرنا پڑا۔ اس وقت ٹاور کے ملازمین نے کہا تھا کہ ایسی ’’کام کی پالیسیوں‘‘ کے باعث خواتین ملازمین کو ان کی جنس کی بنیاد پر نظر انداز، تبدیل اور عملاً غیر نمایاں کیا گیا۔ ملازمین کے مطابق بعض خواتین کو اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر الگ کمروں میں انتظار کرنے کو کہا گیا، جبکہ کچھ مقامات پر ان کی جگہ مرد ملازمین کو تعینات کیا گیا۔ تمام خواتین ملازمین کو ہدایت دی گئی کہ ہندو وفد کی موجودگی کے دوران بعض مخصوص علاقوں سے گزرنے یا وہاں داخل ہونے سے گریز کریں۔ عملے نے کہا کہ وہ خود کو ایسی صورتحال میں دیکھ کر حیران رہ گئے جو مساوات اور عدم امتیاز کے اصولوں کے بالکل خلاف تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایفل ٹاور فرانس کی علامت ہے اور اسے اپنے فروغ دیے جانے والے اقدار اور ملازمین کے ساتھ برتاؤ کے معاملے میں بھی مثالی ہونا چاہئے۔ تاہم Sete نے تسلیم کیا کہ BAPS کے وفد نے ’’خواتین کے ساتھ میل جول‘‘ محدود رکھنے کی درخواست کی تھی۔ کمپنی نے کہا کہ ایسی شرائط کو قبول نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ بعد ازاں BAPS نے بھی اس واقعے سے ہونے والی ’’تکلیف یا زحمت‘‘ پر معذرت کی۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی ریال تاریخ کی کم ترین سطح پر، ڈالر۲۵؍ لاکھ ریال سے تجاوز کرگیا
پیرس سٹی ہال، جو شہر کی اس تاریخی عمارت کے انتظام کی نگرانی کرتا ہے، نے بھی فرانس کے جمہوری اصولِ مساوات پر عمل نہ ہونے پر معذرت کی۔ BAPS، جو ہندو مذہب کی ایک قدامت پسند شکل پر عمل کرتا ہے اور جسے ناقدین ایک فرقہ قرار دیتے ہیں، نے پیرس کے مشرق میں واقع بوسی-سینٹ-جارجز میں فرانس کے اپنے پہلے روایتی مندر کے افتتاح کی تقریبات کے سلسلے میں ایفل ٹاور کا دورہ کیا تھا۔ گروپ کے مطابق خواتین سے رابطہ محدود رکھنے کی درخواست اس لیے کی گئی تھی کیونکہ وفد میں کئی سادھو موجود تھے، جن میں اس کے روحانی سربراہ ۹۳؍ سالہ مہنت سوامی مہاراج بھی شامل تھے۔ ان کے مذہبی عہد میں خواتین سے کسی بھی قسم کے رابطے سے گریز شامل ہے۔ پیٹرک برانکو روئیوو نے فرانس کی معروف اعلیٰ انتظامی درسگاہ ’’ایکول نیشنل دَیڈمنسٹریشن‘‘ سے تعلیم حاصل کی تھی، جو اب بند ہو چکی ہے۔ وہ اس سے قبل پیرس کی سابق میئر این ہیدالگو کے مشیر بھی رہ چکے ہیں، جہاں وہ عوامی خدمات کو جدید بنانے سے متعلق امور دیکھتے تھے۔ انہیں نومبر ۲۰۱۸ء میں Sete کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا تھا۔