Inquilab Logo

’’۲۰۲۴ء میں بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا مہاتما گاندھی کیلئے سب سے بڑا خراج ہوگا‘‘

Updated: September 19, 2023, 9:11 AM IST | New Delhi

تلنگانہ میں ۲؍ روزہ اجلاس کے آخری دن کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے کی پارٹی کارکنان سے اپیل ، راہل گاندھی نے کہا کہ بی آرایس اور بی جے پی میں کچھ فرق نہیں، دونوں کا اتحاد جگ ظاہر ہے

Mallikarjun Kharge and Rahul Gandhi
ملکارجن کھرگے اورراہل گاندھی

 تلنگانہ کے ۲؍ روزہ اجلاس کے بعد کانگریس پارٹی ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ میدان میں اُتر چکی ہے۔ اجلاس کے آخری دن کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے، سابق صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے پارٹی  عہدیداروں کے ساتھ ہی کارکنان کو خطاب کیا۔  اس موقع پر نئے جوش اور ولولے کے ساتھ آئندہ چند ماہ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اترنے  کے عزم کااظہار کیا۔ 
 ملکارجن کھرگےکہا کہ۲۰۲۴ء میں بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا مہاتما گاندھی کیلئے سب سے بڑا خراج ہوگا کیونکہ۱۰۰؍ سال قبل ۱۹۲۴ء میں انہوں نے کانگریس کی صدارت قبول کی تھی۔کانگریس کی ریاستی کمیٹیوں کے صدور، قانون ساز پارٹی کے لیڈروں اور دیگر مدعو اراکین کے ساتھ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں   نے کہاکہ ’’ہمیں اپنے ذاتی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ۵؍ ریاستوں – تلنگانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور میزورم کے آئندہ انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کو ترجیح دی جانی چا ہئے۔اسی کے ساتھ  ۲۰۲۴ء میں ہونے والے لوک سبھا الیکشن کیلئے ابھی سے کام پر لگ جانا چاہئے۔‘‘انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سے کانگریس کو نئی طاقت اور واضح پیغام ملا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہم ایک مضبوط عزم کے ساتھ حیدرآباد سے جا رہے ہیں۔  پارٹی کارکنان کو پُرجوش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ عزم نہ صرف تلنگانہ میں بلکہ آنے والے تمام انتخابات میں فتح حاصل کرنے کیلئے اور عوام کو بی جے پی کی غلط حکمرانی کے مصائب سے نجات دلا نے کیلئے کافی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ’’لوگ متبادل کی تلاش میں ہیں، جس کاواضح ثبوت ہماچل پردیش اور کرناٹک کے انتخابی نتائج ہیں۔ انہوں نے کانگریس کارکنان سے متحد ہو کر  عوامی کام کرنے کی اپیل کی۔
 راہل گاندھی نے بھی اس موقع پر پارٹی کارکنان سے متحد رہنے کی  اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ہم کس سے لڑ رہے ہیں؟اس کی وضاحت کرتے  ہوئے انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی بی آر ایس اور بی جے پی کے ساتھ ہی ایم آئی ایم سے بھی لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جماعتیں بھلے ہی خود کو الگ کہتی ہوں لیکن  یہ جگ ظاہر ہے کہ یہ سب ایک ہیں۔اس کاثبوت یہ ہے کہ جب بھی بی جے پی کو  ضرورت پڑتی ہے،بی آر ایس اس کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے، خواہ کسانوں کے بل کا مسئلہ ہو یا پھر جی ایس ٹی کا۔
 انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو ریاست کا درجہ کانگریس پارٹی نے دیا۔ سچائی یہ ہے کہ سونیا گاندھی جو کہتی ہیں، اسے پورا کرتی ہیں۔۲۰۰۴ء میں سونیا گاندھی نے کہا تھا کہ ہم تلنگانہ کے بارے میں سوچیں گے اور پھر انہوں نے جو کہا، اسے پورا کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK