سیاستداں شہر کو گندگی اور آلودگی سے پاک بنانے کا وعدہ کررہے ہیں لیکن مہم کے دوران اسپیکر، گاڑیوں کے استعمال اور پٹاخوں سے آلودگی کا سبب بن رہے ہیں۔
فضائی آلودگی کی وجہ سے وڈالا میںدھند چھائی ہوئی ہے۔ تصویر: آئی این این
سیاسی پارٹیاں بی ایم سی الیکشن میں ممبئی کو صاف ستھرا بنانے اور آلودگی سے پاک بنانے کا وعدہ کررہی ہیں لیکن انتخابی مہم میں بڑی تعداد میں گاڑیوں کے استعمال، پٹاخے پھوڑنے، اسپیکر کے استعمال سے صوتی اور فضائی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے اور پوسٹر بازی سے شہر بدنما بھی ہورہا ہے۔
واضح رہے کہ ماضی کے مقابلے ممبئی میں فضائی آلودگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جس سے عوام میں اس تعلق سے بیداری پیدا ہوئی ہے۔ اس الیکشن میں پانی سپلائی، گٹروں اور کچرا صفائی جیسے موضوعات کے علاوہ لوگ صوتی اور فضائی آلودگی کے مسائل حل کرنے کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکار کی جانب سے میٹرو اور کوسٹل روڈ جیسے بڑے پروجیکٹوں کی تعمیر کے بعد جنوبی ممبئی اور دیگر کئی ایسے علاقوں میں برسات میں سڑکوں پر پانی بھرنے کی شکایتیں موصول ہونے لگی ہیں جہاں اب تک کبھی سڑکوں پر پانی نہیں بھرتا تھا جس کی وجہ سے آبی درخت اور عام درختوں کی بے دھڑک کٹائی پر عوام کی جانب سے ماحولیات پر منفی اثرات کے تعلق سے بھی سوالات کئے جاتے ہیں۔
ان حالات میں جب مختلف پارٹیوں کے امیدوار ووٹ مانگنے کیلئے انتخابی ریلیوں میں جارہے ہیں تو فضائی اور صوتی آلودگی کم کرنے کے تعلق سے بھی وعدے کررہے ہیں۔ تاہم انتخابی مہم کے دوران ریلیوں میں پٹاخے پھوڑنےاور اسپیکر کے استعمال سے فضائی اور صوتی آلودگی پھیل رہی ہے۔ اس کے علاوہ کئی مقامات پر کرایے پر سائیکلوں یا مخصوص موٹر گاڑیوں پر آڈیو اور ویڈیو کے ذریعہ امیدوار کی تشہیر کی جاتی ہے جس سے شور شرابہ ہوتا ہے۔
کئی گھنٹے چلنے والی ریلیوں میں شامل افراد پانی کی بوتلیں اور کھانے کے بعد پیکٹ وغیرہ راستے پر ہی پھینک دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ امیدواروں پر پھول وغیرہ برسائے جاتے ہیں جو راستوں پر پڑے رہتے ہیں اور ان سب کی وجہ سے شہر میں پیدا ہونے والے کچرے میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔
شہر و مضافات میں جگہ جگہ تقریباً ہر سیاسی پارٹی اور امیدوار کے پوسٹر دیواروں یا جہاں خالی جگہ مل جائے وہاں چسپاں کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جن سے شہر بدنما ہورہا ہے، حالانکہ بامبے ہائی کورٹ نے بی ایم سی کی اجازت کے بغیر پوسٹر اور بینر وغیرہ لگانے پر پابندی عائد کررکھی ہے۔
کئی مرتبہ ریلیوں میں بڑی تعداد میں گاڑیاں استعمال کی جاتی ہیں جن کے دھوئیں سے فضائی آلودگی بھی پھیلتی ہے اور ٹریفک جام کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے جبکہ ان کے وعدوں میں ٹریفک جام کا مسئلہ حل کرنا بھی شامل ہے۔
سیاسی طور پر متحرک اور ایک پارٹی کی ریلیوں میں شریک رہنے والے شخص نے اس سلسلے میں اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کے دوران کہا کہ زیادہ سے زیادہ رائے دہندگان تک پہنچنے کیلئے یہ سب کرنا مجبوری ہے تاکہ امیدوار جیت سکے۔ ایک مرتبہ جیت جائیں تو ان مسائل کو حل کرنے کے اقدام کئے جائیں گے۔
یہاں یہ بات ذہن نشین رہےکہ روایتی انتخابی مہم سے ہٹ کر ایک نیا رجحان یہ بھی چل پڑا ہے کہ کالج کے طلبہ اور نوجوانوں کو بھی تشہیری مہم میں شامل کیا جارہا ہے۔ البتہ یہ نوجوان ریلیوں وغیر میں شامل ہونے کے بجائے سوشل میڈیا پر اشتہاروں کے ذریعہ اور ریل (ویڈیو) وغیرہ بنا کر امیدواروں کی تشہیر کرتے ہیں جن سے ریلیوں جیسے مسائل پیدا نہیں ہوتے اور ان نوجوانوں کی بھی کچھ آمدنی ہوجاتی ہے۔