• Tue, 13 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آر ٹی ای داخلہ سےمتعلق مطالبات پورے نہ ہونے پر نجی اسکولوں کے مالکان پریشان

Updated: January 13, 2026, 10:40 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

۳؍ہزارکروڑ روپے داخلہ فیس کی واپسی سے لے کر کرائے میں اضافے اوردیگر مسائل کیلئے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم سے ملاقات کرنےکافیصلہ۔

A large number of students take admission under RTE. Picture: INN
بڑی تعداد میں طلبہ آ رٹی ای کے تحت داخلہ لیتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
حکومت اور میونسپل کارپوریشن کی ممبئی کے تعلیمی نظام پر مسلط انتظامی جبر، مالی مجبوریوں اور فیصلہ سازی کا انتشار اب ناقابل برداشت حدوں تک پہنچ گیا ہے  جس کی وجہ سےنجی تعلیمی اداروں کے مالکان کے صبر کا پیمانہ چھلک اُٹھاہے۔ ان کے مطالبات برسوں سے التواء کا شکار ہیں۔ آر ٹی ای داخلہ فیس کی واپسی سے لے کر کرائے میں اضافہ، ایکریڈیٹیشن کے عمل اور اساتذہ کو غیر نصابی کاموںپر مامورکرنےجیسے مسائل سے پریشان ہوکرمالکان نے اندھیری میں ایک میٹنگ کا انعقادکیا جس میں حکومت سے مذکورہ مطالبات پورے کرنے کی ایک مرتبہ پھراپیل کی گئی ۔
مہاممبئی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز اسوسی ایشن نے آر ٹی ای کے تحت ۲۵؍فیصد داخلوں کیلئے فیس کی واپسی میں برسوں کی تاخیر، ممبئی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے پرائیویٹ ایڈیڈ اسکولوں پر ہر۵؍ سال بعد توسیع کی منظوری کے عمل اور سیٹوں کی منظوری میں جابرانہ شرائط میں نرمی کی ضرورت کے ساتھ پبلک اسکول پرائیویٹ پلاٹ کے تحت سرکاری اسکولوں کے استعمال میں آنے والی رکاوٹوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ۔یہ الزام بھی لگایا ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں کو شراکت دار نہیں سمجھتی ہے۔ اس کے علاوہ میونسپل اسکولوں کی عمارتوں میں کام کرنے والے پرائیویٹ ایڈیڈ اسکولوں پر عائد ۱۰؍فیصد سالانہ کرایوں میں اضافے، نئے اساتذہ کی تقرریوں کیلئے این اوسی کے اجراء میں تاخیراور انتخابی دور میں اساتذہ پر بی ایل او سمیت غیر تعلیمی کام مسلط کرکے عدالتی احکامات کی بڑے پیمانے پرہونے والی خلاف ورزی پر برہمی کا اظہار کیاہے۔
اس موقع پر ایک قرار دادبھی منظور کی گئی اور اس تعلق سے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم سے ذاتی طور پر ملاقات کرنےکافیصلہ کیاگیا۔ریاستی حکومت نے گزشتہ کئی برس سے حق تعلیم قانون کے مطابق نجی غیر امدادی اسکولوں میں داخلہ فیس کی رقم تقریباً ۳؍ہزارکروڑ روپے واپس نہیں کئے ہیں، اس لئے ریاست کے مختلف تعلیمی اداروں نے اب اس کی وصولی کیلئے قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK