چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالاباغچی اور جسٹس وی موہنا پرمشتمل بینچ نے شیوسینا کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ فیصلے میں تاخیر کے نتائج ہم دیکھ چکے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 12:42 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالاباغچی اور جسٹس وی موہنا پرمشتمل بینچ نے شیوسینا کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ فیصلے میں تاخیر کے نتائج ہم دیکھ چکے ہیں۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو سیاسی پارٹیوں کے ناموں اور انتخابی نشانات پر تنازعات کے حوالے سے اہم تبصرہ کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ایسے معاملات کو حل کرنے میں تاخیر انتخابی عمل کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ ممتا بنرجی کی ان کی پارٹی کا نام اور نشان منجمد کرنے کے ا لیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران کیا ۔چیف جسٹس سوریہ کانت ، جسٹس جوئے مالاباغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بینچ نے سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ڈی ایس نائیڈوکو ہدایت دی کہ وہ کمیشن سے کہہ دیں کہ ٹی ایم سی کے نام اور نشان کی ملکیت کے تعلق سےفیصلہ کرنے کیلئےایک وقت مقرر کیاجائے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں شکست اور اس کے بعد لیڈروں کے ایک بڑے طبقے کے ریتابرت بنرجی کے ساتھ اصل ترنمول کانگریس سے منحرف ہونے کے بعد ممتا کی پارٹی میں دوگروہ بن گئے تھے۔ کچھ لیڈر ممتا بنرجی کے ساتھ رہے۔ اس اندرونی کشمکش اور تقسیم کے بعد الیکشن کمیشن نے ٹی ایم سی کا نام اور انتخابی نشان منجمد کر دیا اور دونوں گروہوں کو عارضی نام اور نشان تفویض کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: رائے بریلی سےاکھلیش یادو کی ’پی ڈی اے‘ رتھ یاترا کا آغاز، ذات پات کی صف بندی پرتوجہ
سماعت میں کیا ہوا؟
ممتا بنرجی کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کا حکم انتخابی عمل شروع ہونے کے بعد آیا۔ انہوں نے نندی گرام اور ریجی نگر اسمبلی ضمنی انتخابات کا حوالہ دیا جو بالترتیب۶؍اور۹؍ اکتوبر کو ہونے والے ہیں ۔ سبل نے کہاکہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بالکل غلط ہےاور یہی وجہ ہےکہ ممتا بنرجی کے پاس اسےچیلنج کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیںبچا۔
سپریم کورٹ نےکیاکہا ؟
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ چونکہ انتخابات شروع ہو چکے ہیں، اس لئے وہ اس وقت انتخابی عمل میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ تاہم چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے یہ جو عبوری فیصلہ کیا ہے ، اسے تیزی سے نپٹانے کیلئے روزانہ سماعت کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔تاہم، پورے معاملے میں ایک قابل ذکر نکتہ یہ تھا کہ سماعت کے دوران جسٹس جوئےمالا باغچی نے مہاراشٹر میں شیو سینا کا ذکر کیا اور کہا کہ(اس کیس میں ) ہم تاخیر کے نتائج دیکھ چکے ہیں۔اگلی سماعت اب ۲۸؍ ستمبر کو ہوگی۔
کس تنازع کا حوالہ دیا گیا؟
قابل ذکر ہے کہ جسٹس باغچی نے شیو سینا کے تنازع کا حوالہ دیا جہاں ایکناتھ شندے اور ادھو ٹھاکرے کےگروہوں کے درمیان پارٹی کے نام اور تیر کمان کے انتخابی نشان پر ایک طویل قانونی جنگ لڑی گئی تھی۔ اس کیس میں یہ سوال موضوع بحث رہا ہےکہ کیا صرف قانون سازوں کی اکثریت کو پارٹی کی حقیقی ملکیت کا پیمانہ سمجھا جا سکتا ہے؟