سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کے دوران فارم میں کسی بھی طرح کی ترمیم کو منظوری دینے کی تردید کی، گیانیش کمار کے خلاف پٹیشن پر مرکز اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 8:54 AM IST | Agency | New Delhi
سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کے دوران فارم میں کسی بھی طرح کی ترمیم کو منظوری دینے کی تردید کی، گیانیش کمار کے خلاف پٹیشن پر مرکز اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا۔
گیانیش کمار کے خلاف داخل کی گئی پٹیشنوں پر شنوائی کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا نے الیکشن کمیشن کے اس دعویٰ کی تردید کردی ہےکہ فارم -۶؍ میں کی گئی تبدیلی کو سپریم کورٹ کی منظوری حاصل ہے۔اس کےساتھ ہی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مرکزی حکومت کو اُن درخواستوں پر نوٹس جاری کیا ہےجن میں انڈین ایکسپریس کے انکشافات کا حوالہ دیتے ہوئے گیانیش کمار کی برخواستگی کا مطالبہ کیاگیاہے۔
فارم -۶؍ پر الیکشن کمیشن کی دروغ گوئی !
یاد رہے کہ انڈین ایکسپریس کے اس انکشاف کے بعد کہ نئے ووٹرس کے اندراج کیلئے فارم -۶؍ میں اضافی تفصیلات طلب کرنے کیلئے کی گئی تبدیلیوں کو ساتھی الیکشن کمشنروں وویک جوشی اور سکھ بیر سنگھ سندھو نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اعتراض کیاتھا،الیکشن کمیشن کو اپنے قدم پیچھےلینے پڑے تھے۔ اخبار میں خبر کی اشاعت کے کچھ ہی دنوں بعد کمیشن نے اُن ریاستوں میں جہاں ایس آئی آر مکمل ہوچکا ہے، فارم -۶؍ میں کی گئی تبدیلی واپس لے لی تھی جب کہ جہاں ایس آئی آر چل رہا ہے وہاں کے تعلق سے دعویٰ کیاتھا کہ سپریم کورٹ اس کی منظوری دے چکاہے۔ پیر کو چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نےاس بات سے انکار کیا کہ اس نے نئے ووٹر کے رجسٹریشن کیلئے فارم ۶؍ میں کسی ترمیم کو منظوری دی ہے۔
فارم -۶؍ کا معاملہ کیسے زیر بحث آیا
گیانیش کمار کے خلاف عرضی داخل کرنے والوں کی سینئر وکیل مینکا گرو سوامی نےفارم۶؍ میں کی گئی تبدیلیوں پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔ان کے دلائل کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس کانت نے کہاکہ ’’ہم نے ترمیم شدہ فارم۶؍ کی منظوری نہیں دی۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے۔ جب ریکارڈ پیش کیا جائے گا تو ہم دیکھنا چاہیں گے کہ ترمیم کس نے کی ۔‘‘
گیانیش کمار کی برطرفی کی درخواست پر نوٹس
اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن میں مبینہ طورپرچیف الیکشن کمشنرکے ذریعہ یکطرفہ طورپر کئے جانے والے فیصلوںکے خلاف عر ضیوںپرسپریم کورٹ مرکزی حکومت، الیکشن کمیشن آف انڈیا اور دیگر فریقوں کو نوٹس جاری کیا۔عرضیوں میں کہاگیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے دیگر دو الیکشن کمشنروں کی منظوری کے بغیر یکطرفہ فیصلے کیے۔ بنچ نے الیکشن کمیشن کے علاوہ خودگیانیش کمار، دو الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، اور کمیشن کی ڈائریکٹر جنرل (آئی ٹی) سیما کھنہ اور سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ سے بھی جواب طلب کیا۔بنچ نے کہا کہ نوٹس کے بعد، اگر رپورٹس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کا کوئی فیصلہ نہ تو اکثریت کی بنیاد پر تھا اور نہ ہی اتفاق رائے سے، تو انہیں ان فیصلوں کی وضاحت کرنی ہوگی۔
گیانیش کمار نے عہدہ کا غلط استعمال کیا
راہل گاندھی نے آن لائن فارم-۶؍میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلیوں سے متعلق سپریم کورٹ کی وضاحت پر کہا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ گیانیش کمار نے فارم-۶؍ میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلی کی ہے اور یہ تبدیلی واضح طور پر بی جے پی کی مدد کے لیے کی گئی۔ یہ ان کے عہدے کے غلط استعمال کا ایک اور ثبوت ہے۔ اس معاملے کی سازش میں شامل تمام لوگوں کو ’ووٹ چوری‘ کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔‘‘
دھیان بھٹکانے کی ایک اورکوشش ہوگی
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے متنبہ کیا ہے کہ ’’تانا شاہ ڈرا ہوا ہے، دھیان بھٹکانے کی ایک اور کوشش کیلئے تیار رہئے۔‘‘ا س کے ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ ’’کانگریس ۳؍ مطالبات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا...پہلا گیانیش کمار کا استعفیٰ، دوسرا ایس آئی آر کو رَد کرنا، تیسرا بیلٹ پیپر پر انتخاب کرانا۔‘‘ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’جو بھی سول سوسائٹی ممبرز و یوتھ آرگنائزیشنز ان ایشوز پر ملک میں جگہ جگہ احتجاج کر رہے ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں۔‘‘