Updated: October 05, 2026, 9:59 PM IST
| Gaza
اسرائیل کی جانب سے کئے گئےحالیہ حملےمیں کئی افراد جاں بحق ہوئے اسی دوران حماس لیڈر علی العمودی بھی اس حملے کی زدمیں آگئے ۔ لیکن فلسطینی میڈیااور حماس کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہےان کی جان بچ گئی ہے ۔ واضح رہے کہ فلسطین میں جاری اسرائیل کی نسل کشی کے دوران گزشتہ سال جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن اس کے باوجود اسرائیل بارہا حملے کر کے معاہدے کے خلاف ورزی کر رہا ہے۔
حماس کے سینئر لیڈر غازی حمد نے العربیہ کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں تنظیم کے عملًا (ڈی فیکٹو) قائد علی العمودی جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کئےگئے اسرائیلی قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔فلسطینی میڈیا کے مطابق اس اسرائیلی حملے میں کئی خواتین سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم جاں بحق ہونے والوں کی فہرست میں علی العمودی کا نام شامل نہیں تھا، جس کے باعث ان کی حالت کے بارے میں صورتحال فی الحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف ) کا کہنا ہے کہ اس حملے میں علی العمودی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک رہائشی عمارت کے اندر موجود ایسے اپارٹمنٹ میں مقیم تھے جسے ’’ دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ‘‘ دوسری جانب، اسرائیل کے چینل ۱۲؍ نے کہا ہے کہ ابھی کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا، تاہم اسرائیل یہ تصدیق حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ قاتلانہ حملہ کامیاب رہا یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ناظرین کی توجہ ’’ہتھیانے‘‘ کی ہوڑ، اِس کوشش میں جو جیتا وہی سکندر ہے!
مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق، ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو جنگ شروع ہونے سے پہلے علی العمودی ابتدائی طور پر حماس کے میڈیا شعبے کے سربراہ تھے اور تنظیم کے سیاسی بیورو کے رکن کے طور پر کام کر رہے تھے۔ تاہم،۲۰۲۴ء میں حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار اور ان کے نائب روحی مشتہی کی ہلاکت کے بعد، علی العمودی غزہ میں حماس کی قیادت کرنے والے خلیل الحیہ کے نائب بن گئے۔ اس کے بعد، جولائی ۲۰۲۶ء میں جب خلیل الحیہ کو حماس کے سیاسی بیورو کا نیا سربراہ بنایا گیاتو نیا جانشین منتخب ہونے تک علی العمودی کو غزہ میں حماس کا عملًا (ڈی فیکٹو) قائد مقرر کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: نیپولین کے دور کا ۲۱۷ سال پرانا پراسرار خط جی پی ٹی-۶ ایسٹرا نے ۶ گھنٹوں میں ڈی کوڈ کر لیا
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہوا تھا، لیکن غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جمعرات تک مسلسل کی جانے والی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ایک ہزار ۴۳۹؍ فلسطینی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور ۵؍ ہزار ۵۲؍ دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی کل تعداد ۷۴؍ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ ۷۴؍ ہزار سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ، اس علاقے کے تقریباً ۹۰؍ فیصد بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔