تمام پرالیکشن کے دوران کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثے، مجرمانہ ریکارڈ اور دیگر اہم معلومات چھپانے یا غلط معلومات دینے کا الزام ہے۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 8:35 AM IST | Patna
تمام پرالیکشن کے دوران کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثے، مجرمانہ ریکارڈ اور دیگر اہم معلومات چھپانے یا غلط معلومات دینے کا الزام ہے۔
بہار کی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب پٹنہ ہائی کورٹ میں ۴۲؍ایم ایل ایز کے انتخاب کو چیلنج کیاگیا۔ ذرائع کے مطابق عدالت نے انہیں نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب بھی طلب کرلیا ہے۔ اس فہرست میں بہار اسمبلی کے اسپیکر پریم کمار، قدآور وزیر وجیندر یادو اور چیتن آنند جیسی اہم شخصیات شامل ہیں ۔ ان تمام پر انتخابات کے دوران کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثے، مجرمانہ ریکارڈ اور دیگر اہم معلومات چھپانے یا غلط معلومات دینے کا الزام ہے۔ ہائی کورٹ کی اس سخت کارروائی سے نہ صرف حکمراں پارٹی بلکہ اپوزیشن میں بھی کھلبلی مچ گئی ہے کیونکہ آر جے ڈی کے ممبران اسمبلی بھی ان ملزموں میں شامل ہیں۔
کیا ہے سارا معاملہ؟
یہ تنازع اسمبلی انتخابات کے بعد دائر کی گئی انتخابی عرضیوں سے متعلق ہے۔ ہارنے والے امیدواروں نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ جیتنے والے امیدواروں نے اپنے انتخابی حلف ناموں میں غلط معلومات فراہم کیں اور ووٹنگ کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ ابتدائی سماعت کے بعد، عدالت نے معاملے کو سنگین سمجھا اور تمام متعلقہ ایم ایل ایز سے جواب طلب کیا۔
جن اہم لیڈروں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے ان میں اسمبلی اسپیکر پریم کمار، وزیر وجیندر یادو، سابق وزیر جیویش مشرا، ایم ایل اے چیتن آنند اور آر جے ڈی ایم ایل اے امریندر پرساد کے علاوہ دیگر شامل ہیں۔ حکمراں اور اپوزیشن دونوں پارٹیوں کے ایم ایل اے کو جاری کیے جانے والے نوٹس سے معاملے کی سنگینی سامنے آتی ہے۔
عدالت کا فیصلہ قبول، قانون کے مطابق جواب دیں گے
پورے معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل کے ایم ایل اے بھائی ویریندر نے کہا کہ انتخابی نتائج کو عدالت میں چیلنج کرنا جمہوری حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ہارنے والے امیدواروں کو عدالتی عمل کو آگے بڑھانے کا پورا حق حاصل ہے اور بہت سے معاملات میں وہ عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اب زیر سماعت ہے اور حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔ اسے عام انتخابی عمل کا حصہ قرار دیتے ہوئے ایم ایل اے نے کہا کہ جمہوریت میں اس طرح کی درخواستیں غیر معمولی نہیں ہیں اور عدالت حقائق پر مبنی فیصلے جاری کرتی ہے۔ بی جے پی ایم ایل اے جیویش مشرا نے کہا کہ عدالت کے سوال کا جواب عدالت میں دیا جائے گا۔ کانگریس ایم ایل اے ابھیشیک رنجن نے کہا کہ اگر کسی کو غلط لگتا ہے تو وہ عدالت سے رجوع ہوئے ہیں۔ اب، یہ عدالت پر منحصر ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ قانونی عمل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت جو حکم دے گی ہم اس پر عمل کریں گے۔
عدالت کا تبصرہ
سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ انتخابی حلف نامہ جمہوری عمل میں اہم دستاویز ہے۔ ووٹروں کو امیدوار کے اثاثوں، پس منظر اور معاملات کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنے کا حق ہے۔ انہیں چھپانا یا غلط معلومات فراہم کرنا سنگین خلاف ورزی سمجھی جا سکتی ہے۔ اس عدالتی کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ انتخابی عمل میں شفافیت کیلئے سخت ہے۔ یہ حکمراں جماعت اور اپوزیشن دونوں کو پیغام بھیجتا ہے کہ نامز دگیوں کے دوران فراہم کی گئی معلومات کے لیے انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ اب سب کی نظریں اگلی عدالتی سماعت پر ہیں، جو اس بات کا تعین کرے گی کہ یہ معاملہ سیاسی تنازع بنتا ہے یا انتخابی اصلاحات کی نئی شروعات کی را ہ ہموار کرتا ہے۔ عدالت میں الیکشن کمیشن کی نمائندگی کرنے والے سدھارتھ پرساد نے بتایاکہ یہ درخواستیں ہارنے والے امیدوا روں نے داخل کی ہیں جن کی بنیاد پرمدعا علیہان کونوٹس جاری کیاگیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عموماً کوئی بھی انتخابی پٹیشن یکسر خارج نہیں کی جاتی۔ اس معاملے میں بھی عدالت نے کارروائی کی ہے۔