• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملئے، حافظ مولانا رشید احمد ندوی سے جو ۴۶؍ سال سے تراویح پڑھا رہے ہیں

Updated: February 20, 2026, 9:40 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

انہوں نے پہلی تراویح سے ۴۵؍سال تک ممبئی کی مشہور پتھروالی مسجد میں پڑھایا۔ ان کے بڑے بھائی عالم اور شارجہ یونیورسٹی میں استاذِ حدیث ہیں جبکہ۸؍ بھتیجے حافظ ہیں اور سب تراویح پڑھارہے ہیں۔ ۴؍بھتیجیاں حافظہ ہیں۔

Maulana Hafiz Rashid Ahmed Bhoira Nadvi is busy reciting the Holy Quran. Photo: INN
مولانا حافظ رشید احمد بھوئیرا ندوی تلاوت قرآن کریم میں مصروف ہیں۔ تصویر: آئی این این

ملئے مولانا حافظ رشید احمد بھوئیرا ندوی (۶۱) سے جو بلا ناغہ ۴۶؍ سال سے تراویح پڑھا رہے ہیں۔ مشکل حالات میں بھی یہ اہتمام ترک نہیں ہوا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء (لکھنؤ) میں ۱۹۷۷ء میں حافظ حشمت اللہ صاحب گونڈوی مرحوم کے پاس حفظ مکمل کیا تھا جو استاذالاساتذہ حافظ محمداقبالؒکے شاگرد تھے۔ 
حافظ رشید احمد نے ممبئی کی قدیم پتھر والی مسجد میں ۱۹۸۱ء سے تراویح پڑھانا شروع کیا اور ایک ہی مسجد میں ۴۵؍ سال تسلسل کے ساتھ پڑھایا۔ پچیس تیس سال سے زائد عرصے تک تنہا پڑھایا اس کے بعد بھتیجے اور بھانجے بھی ساتھ آگئے۔ امسال اپنے بھائی کے گھر پر۴۶؍ ویں محراب سنا رہے ہیں۔ حافظ مولانا رشید احمد نے حفظ کی تکمیل کے بعد پہلی تراویح ۱۶؍ سال کی عمر میں پڑھائی۔ چہرے پر داڑھی نہیں تھی اس لئے اُس وقت کچھ مصلیان نے اعتراض کیا تو اس وقت کے پتھر والی مسجد کے خطیب و امام مولانا جمال الدین (مجاز صحبت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ) نے فرمایا کہ بھائی، یہ بالغ ہوچکے ہیں۔ 
حصول علم کے بعد مولانا رشید احمد نے۷؍ سال تدریسی خدمات انجام دیں ، ان میں فلاح دارین ترکیسر اور ممبئی کے متعدد ادارے شامل ہیں۔ اب صفا اسکول کے زیر اہتمام جاری صفاء مدرسہ کے انتظامی امور کی ذمہ داری نبھارہے ہیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیر اہتمام بائیکلہ میں جاری دارالقضاء کی نگرانی بھی ان کے سپرد ہے۔ معاش کے لئے وہ عطر کا کاروبار کرتے ہیں۔ مختلف مصروفیات کے باوجود آج تک تراویح سنانے کے معمول میں کوئی فرق نہیں آیا۔ یومیہ ڈھائی تا تین پارے تلاوت کا سال بھر معمول رہتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کلیان: تعمیراتی کام کا اسٹرکچرل سیفٹی آڈٹ کرانے کامطالبہ

مولانا رشید احمد کے علمی خانوادہ میں حفاظ کی کثرت ہے۔ بڑے بھائی محمد ولی اللہ ندوی نے ہردوئی سے حفظ کیا، وہ ندوی بھی ہیں اور ازہری بھی اور شارجہ یونیورسٹی میں استاد حدیث ہیں۔ مولانا رشید احمد کے بیٹے عمار نے عصری علوم کے ساتھ صفا اسکول سے حفظ کیا۔ اس کے ساتھ ہی پروین گاندھی لاء یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا اور فی الوقت برمنگھم یونیورسٹی میں ایل ایل ایم کررہے ہیں۔ بڑے بھائی کے تین صاحبزادے حافظ ہیں۔ مولانا رشید احمد کے ۹؍ بھائی ہیں اور ان بھائیوں کے ۸؍بیٹے حافظ قرآن ہیں، ان میں سے ۶؍ بیرون ملک ہیں اور وہیں پڑھارہے ہیں۔ ۴؍ بھتیجیاں بھی حافظہ ہیں۔ 
مولانا کے دادا دینی علوم سے آراستہ نہیں تھے مگر ان کی خواہش تھی کہ ان کے بچے دینی علوم حاصل کریں۔ مولانا رشید احمد کے والد صوفی عبدالرحمٰن حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ سے بیعت ہوئے اور اجل خلفاء میں شمار کئے گئے۔ اس کی برکت یہ ہوئی کہ پھر دینی علوم کے حصول کی جانب خصوصیت سے توجہ ہوئی۔ مولانا کے والد صوفی عبدالرحمٰن کا انتقال ۲۰۰۴ء میں مدینہ طیبہ میں ہوا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ مولانا رشید احمد نے نئے حفاظ کو یہ مشورہ دیا کہ وہ پورے سال تلاوت کا معمول بنائیں۔ مولانا کے مطابق نئے حفاظ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سال بھر توجہ نہیں دیتے، محض رمضان میں محنت کرتے ہیں ، اسی وجہ سے ان میں تراویح پڑھانے میں خوف محسوس ہوتا ہے اور اعتماد متزلزل رہتا ہے، اگر سال بھر اہتمام رہے تو یہ کیفیت ختم ہوجائے گی اور اللہ کے مقدس کلام کی تلاوت کا بنیادی حق بھی ادا ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK