کانگریس کی ناراضگی ختم، امباداس دانوے کی حمایت، این سی پی (اجیت) نے ذیشان صدیقی اور شیوسینا (شندے )نے بچو کڑو کوٹکٹ دیا
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 12:23 AM IST | Mumbai
کانگریس کی ناراضگی ختم، امباداس دانوے کی حمایت، این سی پی (اجیت) نے ذیشان صدیقی اور شیوسینا (شندے )نے بچو کڑو کوٹکٹ دیا
۱۲؍ مئی ۲۰۲۶ء کو ہونے والے قانون ساز کونسل (ودھان پریشد) انتخابات بلامقابلہ ہوں گے۔ مہایوتی اور مہا وکاس اگھاڑی کی جانب سے اپنے امیدواروں کے ناموں کے اعلان کے بعد منظرنامہ پوری طرح صاف ہو چکا ہے کیونکہ اعلان کردہ امیدواروں کے مقابلے میں کوئی بھی امیدوار موجود نہیں ہے لہٰذا یقینی طور پر یہ سبھی از خود منتخب ہو جائیں گے۔
بی جے پی اور شیوسینا (ادھو) کی جانب سے امیدواروں کے ناموں کا اعلان ہو چکا تھا ۔ اب شیوسینا (شندے) نے بھی اپنے حصے کی ۲؍ سیٹوں پر امیدواروں کے نام ظاہر کر دیئے ہیں ۔ جبکہ این سی پی اجیت نے بھی پرچہ بھرنے کی آخری تاریخ پر اپنے پتے کھول دیئے اور ذیشان صدیقی کو ٹکٹ دیدیا۔یاد رہے کہ ودھان پریشد کے ۹؍ اراکین کی میعاد ۱۳؍ مئی کو ختم ہونے والی ہے۔ ان میں سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے بھی شامل ہیں۔ اسمبلی میں اپنے اراکین کی تعداد کے مطابق پارٹیوں کے جتنے ووٹ بنتے ہیں اس کے حساب سے مہا وکاس اگھاڑی صرف ایک سیٹ جیت سکتی ہے۔ لہٰذا شیوسینا (ادھو) نے ادھو ٹھاکرے کی جگہ پر امبا داس دانوے کو ٹکٹ دیدیا ہے۔ جبکہ مہایوتی کے پاس ۸؍ سیٹیں جیتنے کیلئے خاطر خواہ ووٹ موجود ہیں ۔ لہٰذا مہایوتی نے بی جے پی (۵) شندے گروپ (۲) اور این سی پی (ایک) کے حساب سے سیٹوں کو تقسیم کر لیا ہے۔ جبکہ مہا وکاس اگھاڑی کی ایک سیٹ کیلئے ادھو ٹھاکرے اپنے قریبی امبا داس دانوے کو اپنی جگہ امیدواری دی تھی۔ اس پر کانگریس لیڈران میں ناراضگی تھی۔
کانگریس کی ناراضگی دور
بدھ کو شیوسینا ( ادھو) کی جانب سے امبا داس دانوے کے نام کا اعلان ہوتے ہی کانگریس کے مختلف لیڈران نے خفگی کا اظہار کیا تھا جبکہ پارٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال دہلی روانہ ہو گئے تھے لیکن جمعرات کو سپکال پھر ممبئی میں نظر آئے ۔ اس دوران کانگریس کے سابق ریاستی صدر نانا پٹولے نے ناگپور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہماری خواہش یہی تھی کہ ادھو ٹھاکرے ودھان پریشد الیکشن لڑیں لیکن انہوں نے امباداس دانوے کو ٹکٹ دیا ہے۔ یہ ان کی پارٹی کا فیصلہ ہے اس پر ہم کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن ہماری حکمت عملی کیا ہوگی یہ ہم ابھی نہیں بتائیں گے۔ آپ دوپہر ۳؍ بجے تک ٹھہر جائیے کوئی دھماکہ ہونے والا ہے۔ ‘‘ اس دوران شیوسینا کے ایک وفد نے ہرش وردھن سپکال سے ملاقات کی ۔ طویل گفت وشنید کے بعد کانگریس نے شیوسینا کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ’’ امبا داس دانوے ہی مہا وکاس اگھاڑی کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔‘‘ اس طرح نانا پٹولے کے قول کے مطابق کوئی دھماکہ نہیں ہوا بلکہ امبا داس دانوے کی راہ ہموار ہو گئی۔
اب یہ بات طے ہو چکی ہے کہ ودھان پریشد الیکشن کیلئے جن ۹؍ لوگوں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے وہ بلامقابلہ منتخب ہوجائیں گے۔ وہ نام اس طرح ہیں: سنیل ونائک کرجت کر، مادھوی نائیک، سنجے نتھو جی بھنڈے، وویک بپن دادا کولہے اور پرمود شانتارام جٹھار (تمام بی جے پی) بچو کڑو اور نیلم گورے ( شیوسینا ، شندے)، ذیشان صدیقی ( این سی پی، اجیت ) اور امباداس دانوے (شیوسینا ، ادھو)