ترنمول کانگریس میں جاری بغاوت کے درمیان ایک نیا سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
اسد الدین اویسی- تصویر:آئی این این
ترنمول کانگریس میں جاری بغاوت کے درمیان ایک نیا سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سرمائی اجلاس کے دوران پارلیمنٹ میں ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کے وقت ایک مسلم رکن پارلیمان نے ترنمول کانگریس کے ایم پی اور سابق کرکٹر یوسف پٹھان کو بی جے پی کے خلاف احتجاج سے الگ رہنے کیلئے کہا تھا۔ بعد میں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان مہوا موئترا نےان کے پوسٹ کے جواب میں واضح کیا کہ ’’وہ رکن پارلیمان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی تھے۔‘‘
آغا روح اللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر لکھا کہ سرمائی اجلاس میں اپوزیشن ’ایس آئی آر‘اور دیگر مسائل پر ایوان میں احتجاج کر رہاتھا، ٹی ایم سی کے اراکین ہمیشہ کی طرح ایوان کے وسط میں پہنچ کر سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود وہاں موجود تھے اور انہوں نے ایک سرکردہ مسلم ایم پی کو یوسف پٹھان پر برہمی کا اظہار کرتے اور انہیں احتجاج سے الگ ہونے کیلئے کہتے ہوئے سنا۔
روح اللہ کے مطابق اس واقعے کے بعد یوسف پٹھان احتجاج چھوڑ کر اپنی نشست پر واپس آ گئے اور ان کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوسف پٹھان خوف زدہ دکھائی دے رہے تھے اور تقریباً کانپ رہے تھے۔ بعد میں جب انہوں نے وجہ پوچھی تو یوسف پٹھان نے بتایا کہ ن سے کہا گیا تھا کہ بی جے پی کے خلاف احتجاج نہ کریں، ورنہ گجرات میں ان کا گھر بلڈوزر سے منہدم کر دیا جائے گا۔
آغا روح اللہ نے مزید دعویٰ کیا کہ اسی دوران ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان مہوا موئترا وہاں پہنچیں یوسف پٹھان کی ہمت بندھائی۔ انہوں نے کہ وہ ایسی باتوں سے نہ ڈریں، پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے اور کوئی ان کے خاندان کو نقصان پہنچانے کی ہمت نہیں کرے گا۔ آغا روح اللہ اس کے اس پوسٹ پر مہوا موئترا نے جواب دیا کہ آغا روح اللہ جس شخصیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ اسد الدین اویسی تھے۔ انہوں نے یوسف پٹھان پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’غدار‘‘ قرار دیا اور کہا کہ جس شخص کے لیے انہوں نے آواز اٹھائی تھی، وہی آج پارٹی چھوڑنے والے باغی دھڑے کے ساتھ جا کھڑا ہوا ہے۔