شدید گرمی سے نمٹنے کیلئےبجلی کا استعمال ’’آل ٹائم ہائی‘‘ ہوگیا ، دہلی ، چنئی اور دیگر شہروں میں کئی گھنٹے بجلی غائب ،سرکار کو اپیل کرنی پڑی کہ استعمال میں احتیاط برتیں
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 12:34 AM IST | New Delhi
شدید گرمی سے نمٹنے کیلئےبجلی کا استعمال ’’آل ٹائم ہائی‘‘ ہوگیا ، دہلی ، چنئی اور دیگر شہروں میں کئی گھنٹے بجلی غائب ،سرکار کو اپیل کرنی پڑی کہ استعمال میں احتیاط برتیں
ملک کے کئی حصے اس وقت شدید بجلی بحران کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ ریکارڈ توڑ گرمی نے بجلی کی طلب کو تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔ شدید گرمی کے باعث ملک میں بجلی کی مانگ اس وقت ۲۷۰؍گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے جس کے بعد حکومت کو عوام سے یہ اپیل کرنی پڑ رہی ہے کہ وہ بجلی کے استعمال میں احتیاط برتیں اور غیر ضروری کھپت کم کرنے کی کوشش کریں۔
ماہرین کے مطابق’’ال نینو ‘‘ موسمی پیٹرن کے اثرات کے باعث مئی کے دوران برصغیر میں اوسط سے زیادہ گرمی پڑ رہی ہے۔ جنوبی ہند کے صنعتی اور آئی ٹی مرکز چنئی میں رہائشیوں نے رات کے وقت ۴۰؍ منٹ سے ایک گھنٹے تک بجلی بند رہنے کی شکایت کی ہے۔ شہر کے رہائشی آر ہری کے مطابق، جنوبی چنئی میں گزشتہ دو دنوں سے وقفے وقفے سے بجلی کٹوتی ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے گھر سے کام کرنا مشکل ہو گیا ۔ کچھ یہی حال دہلی اور اطراف کے شہر نوئیڈا کا بھی ہے جہاں کچھ گھنٹے بجلی غائب رہ رہی ہے۔ ایکس پر نوئیڈا اور نئی دہلی کے کئی باشندوں نے رات کے وقت بجلی بند رہنے کی شکایات کیں۔ ممبئی میں بھی کچھ حصوں میں بجلی کی طلب بڑھ جانے کی وجہ سےبجلی گل ہونے کی شکایات مل رہی ہیں لیکن یہ چھوٹے پیمانے کی شکایت ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پاور گرڈ س پر بہت زیادہ لوڈ پڑ رہا ہے۔
قومی پاور ریگولیٹر گرڈ انڈیا کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان تقریباً ۲ء۵۷؍گیگاواٹ کا فرق ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر وزارتِ توانائی نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ اگرچہ حکومت ضرورت کے مطابق بجلی فراہم کرنے کے لئے تیار ہے اور سرکار یہ کام کر بھی رہی ہے لیکن شدید گرمی کے سبب عوام کو چا ہئے کہ بجلی کا استعمال دانشمندی اور کفایت سے کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شام کے وقت بجلی کی قلت ایک دائمی مسئلہ بن چکی ہے کیونکہ اس وقت بجلی کی فراہمی کا انحصار زیادہ تر تھرمل اور ہائیڈرو پاور ذرائع پر ہوتا ہے جبکہ دن کے وقت کچھ حد تک شمسی توانائی طلب پوری کرنے میں مدد دیتی ہے۔ توانائی اور ماحولیات کے تھنک ٹینک کونسل آن اینرجی اینڈ انوائرنمنٹ کی سینئر پروگرام ہیڈ دیشا اگروال کے مطابق، شدید گرمی اور بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب ہندوستان کے پاور سسٹم کے لئے بڑا امتحان بن چکی ہے، خاص طور پر جب راتیں بھی پہلے سے زیادہ گرم ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر بیٹری اسٹوریج کے منصوبوں کو تیز کرنا ہوگا تاکہ دن کے وقت اضافی شمسی توانائی کو رات میں استعمال کیا جا سکے۔وزارتِ توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰؍ مئی کو ملک میں بجلی کی طلب۲۶۵ء۴۴؍ گیگاواٹ تک پہنچ گئی تھی جو ۲۱؍ مئی کو ۲۷۰؍ گیگاواٹ ریکارڈ ہوئی ہے۔ یہ مسلسل تیسرے دن ریکارڈ سطح تھی۔ اس سے قبل ۱۹؍مئی کو۲۶۰؍ گیگاواٹ کی ریکارڈ طلب درج کی گئی تھی ۔