Updated: May 22, 2026, 9:08 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ نے جمعہ کو دہلی فسادات سازش معاملے میں سی اے اے مخالف کارکن تسلیم احمد اور خالد سیفی کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت دے دی، ساتھ ہی عدالت نے یو اے پی اے کے تحت ضمانت سے متعلق وسیع تر سوالات، بشمول عمر خالد اور شارجیل امام کی ضمانت کی عرضداشت بڑی بنچ کو بھیج دئے۔
سی اے اے مخالف کارکن تسلیم احمد(دائیں) اور خالد سیفی( بائیں)۔ تصویر: ایکس
سپریم کورٹ نے جمعہ کو دہلی فسادات سازش معاملے میں سی اے اے مخالف کارکن تسلیم احمد اور خالد سیفی کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت دے دی، ساتھ ہی عدالت نے یو اے پی اے کے تحت ضمانت سے متعلق وسیع تر سوالات، بشمول عمر خالد اور شارجیل امام کی ضمانت کی عرضداشت بڑی بنچ کو بھیج دئے۔ اے ایس جی راجو نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملہ بڑی بنچ کو بھیجا جائے، تاہم عدالت نے کہا کہ یہ مسئلہ ’’تنگ دائرے کا نہیں‘‘ہے۔ بینچ نے وضاحت کی کہ ’’کے اے نجیب کیس ‘‘عدالت کا ’’مستند اعلان‘‘ ہے جو آرٹیکل۲۱؍ کے تحت طویل قید کے خلاف تحفظات فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہائی کورٹ نے یو اے پی اے کیس میں عمر خالد کو عبوری ضمانت دی
بعد ازاں عدالت نے کہا کہ وہ یو اے پی اے کی دفعہ۴۳؍ ڈی (۵؍) کی پابندیوں کو خودکار طور پر ختم نہیں کرتی، لیکن ضمانت دینے کا آئینی اختیار بھی برقرار رکھتی ہے۔ مزید برآں عدالت نے گلفشا فاطمہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے صرف ’’تاخیر‘‘کو ضمانت کی واحد بنیاد نہیں مانا، بلکہ ملزمان کے کردار اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر فرق کیا۔ تاہم امین اندرابی کیس میں ایک اور بنچ نے گلفشا فیصلے پر تحفظات ظاہر کئے تھے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم رتبہ بنچ پہلے فیصلے کو مؤثر طریقے سے ختم نہیں کر سکتی، لہٰذا یہ معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا کو بھیجا جائے تاکہ مناسب بنچ تشکیل دی جائے۔ اس کے بعد عدالت نے تسلیم احمد اور خالد سیفی کو عبوری ضمانت دے دی۔
یہ بھی پڑھئے: آندھراپردیش: کڈپا تشدد کے بعد مسلمانوں کے خلاف گرفتاریاں اور حراستی تشدد: اے پی سی آر رپورٹ
اس تعلق سے خالد سیفی کی اہلیہ نرگس سیفی نے کہا کہ ’’ہر بار ہم اللہ پر بھروسہ کر کے عدالت آئے، اس بار اللہ نے سن لی، خالد کو ضمانت مل گئی۔‘‘ واضح رہے کہ خالد سیفی ایک انسانی حقوق کے محافظ ہیں اور انہوں نے۵؍ سال سے زائد عرصہ جیل میں گزارا ہے۔ جبکہ تسلیم احمد۲۰۲۰ء میں گرفتار ہوئے تھے، ان کی بیٹی سارہ آفرین، جو گرفتاری کے وقت صرف۴؍ یا ۵؍ سال کی تھی، اب تقریباً۱۰؍ یا ۱۱؍ سال کی ہے، نے بار بار جذباتی اپیل کی تھی۔
ذہن نشین رہے کہ جنوری۲۰۲۶ء میں سپریم کورٹ نے اسی معاملے میں پانچ ملزمین (گلفشا فاطمہ، شفاء الرحمٰن، شاداب احمد، محمد سلیم خان، میران حیدر) کو ضمانت دی تھی۔