• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایلون مسک کے گروک نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ’ ’اوڈیسی‘‘ کی پہلی قسط جاری کی

Updated: October 26, 2026, 5:05 PM IST | san Francissco

دنیا کے معروف ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کے مصنوعی ذہانت کے نظام گروک (Grok) نے قدیم یونانی رزمیہ داستان’’اوڈیسی‘‘ پر مبنی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو سلسلے کی پہلی قسط جاری کردی ہے۔

Odyssey And Elon Musk.Photo:INN
اوڈیسی اور ایلون مسک۔ تصویر:آئی این این

دنیا کے معروف ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کے مصنوعی ذہانت کے نظام گروک (Grok) نے قدیم یونانی رزمیہ داستان’’اوڈیسی‘‘ پر مبنی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو سلسلے کی پہلی قسط جاری کردی ہے۔ یہ پیش رفت اس اعلان کے تقریباً تین ماہ بعد سامنے آئی ہے، جس میں مسک نے کہا تھا کہ ان کا مصنوعی ذہانت کا نظام گروک امیجن (Grok Imagine) شاعر ہومر کی مشہور داستان پر مبنی ایک مکمل دورانیے کی فلم تیار کرے گا، جو تاریخی اعتبار سے درست اور اصل داستان کے فن اور روح سے ہم آہنگ ہوگی۔ تاہم، ۲۳؍ اکتوبر کو جاری ہونے والی پہلی قسط تقریباً سات منٹ کی ہے، اس لیے اسے مکمل فلم کے بجائے مجوزہ سلسلے کی ابتدائی پیشکش قرار دیا جارہا ہے۔ اس منصوبے میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے فلم سازی کے امکانات کو نمایاں کرنے کے ساتھ یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ آیا جدید ٹیکنالوجی طویل دورانیے کی فلم میں انسانی جذبات، کرداروں کی گہرائی اور فنکارانہ معیار برقرار رکھ سکتی ہے۔ 
گروک امیجن کے ذریعے تیار کردہ اس قسط میں اوڈیسی کے مرکزی کردار اوڈیسیئس کی کہانی کے ابتدائی حصے کو پیش کیا گیا ہے۔ ویڈیو کا آغاز اوڈیسیئس کی ٹرائے کی جانب سفر کی تیاری سے ہوتا ہے۔ اس کی اہلیہ پینیلوپی اسے لکڑی سے بنا گھوڑے کا ایک چھوٹا سا کھلونا دیتی ہے، جسے وہ اپنے شیر خوار بیٹے کے لیے ساتھ لے جانے کو کہتی ہے۔ اس کے بعد مناظر میں یونانی فوج کی جنگی تیاریوں، ٹرائے کی لڑائی اور اوڈیسیئس کے بیٹے ٹیلیماکس کے بڑے ہونے اور جنگی تربیت حاصل کرنے کے واقعات دکھائے گئے ہیں۔ 
اس ویڈیو کے تمام بصری مناظر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیے گئے ہیں۔ اس میں کرداروں، سمندر، کشتیوں اور جنگی ماحول کو حقیقت سے قریب دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ گروک امیجن نے اس منصوبے میں ونڈر اسٹوڈیوز (Wonder Studios) اور ہدایت کار ڈیو واکر (Dev Walker) کے ساتھ تخلیقی تعاون کیا ہے۔ ویڈیو کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا گیا، جہاں اسے ’اوڈیسی‘ سلسلے کی پہلی قسط قرار دیا گیا۔ 
 ایلون مسک نے جولائی ۲۰۲۶ء میں اعلان کیا تھا کہ سال ختم ہونے سے پہلے گروک امیجن ہومر کی رزمیہ داستان ’’اوڈیسی‘‘ پر مبنی ایک مکمل دورانیے کی فلم تیار کرے گا۔ ان کے مطابق، فلم تاریخی اعتبار سے درست ہونے کے ساتھ ہومر کے فن اور اصل داستان کی روح کے مطابق ہوگی۔تاہم، تازہ ترین پیشکش میں مکمل فلم کے بجائے سات منٹ کی پہلی قسط سامنے آئی ہے۔ گروک امیجن کی جانب سے ابھی تک دستیاب اطلاعات میں فلم کی مجموعی طوالت، آئندہ اقساط کی تعداد یا اگلی قسط کی ریلیز کی حتمی تاریخ واضح نہیں کی گئی۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مکمل فلم کب تک تیار ہوگی یا آیا اسے اصل اعلان کے مطابق سال کے اختتام تک جاری کیا جاسکے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے:۶۳؍سال کی عمر میں فلمسازآنند پنڈت نے ۷؍ دن میں ۳۳۳؍ کلومیٹر سائیکلنگ کرتے ہیں

ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فلم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہدایت کار کرسٹوفر نولان کی’’اوڈیسی‘‘ بھی عالمی سطح پر توجہ حاصل کرچکی ہے۔ مسک نے نولان کی فلم میں بعض اداکاروں کے انتخاب پر تنقید کی تھی اور الزام لگایا تھا کہ اس میں آسکر ایوارڈ کے لیے نامزدگی کے امکانات بڑھانے کی خاطر نمائندگی اور شمولیت کو ترجیح دی گئی ہے۔  دونوں منصوبوں کے درمیان فلم سازی کے طریقۂ کار کا فرق بھی نمایاں ہے۔ نولان کی فلم روایتی فلم سازی، حقیقی مقامات پر شوٹنگ، اداکاروں اور بڑے عملے کی مدد سے تیار کی گئی، جبکہ گروک کا منصوبہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کرداروں اور مناظر کی تخلیق پر مبنی ہے۔
البتہ ’تاریخی اعتبار سے درست‘ ہونے کا دعویٰ بھی بحث کا موضوع ہے، کیونکہ ہومر کی ’’اوڈیسی‘‘ ایک قدیم رزمیہ داستان ہے جس میں دیومالائی کرداروں اور غیر معمولی واقعات کا ذکر ہے۔ اس لیے اس کی تاریخی درستگی کا جائزہ لیتے وقت قدیم یونانی ثقافت، داستانی روایت اور تخلیقی تشریح کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ ابتدائی قسط کے بصری معیار کو بعض مبصرین نے قابلِ توجہ قرار دیا ہے، خصوصاً سمندر میں کشتیوں کے مناظر اور کرداروں کی ظاہری شکل کو حقیقت سے قریب بنانے کی کوشش کو۔ تاہم، متعدد ناقدین نے کہانی کی رفتار، مکالموں، کرداروں کی جذباتی گہرائی اور مجموعی فنکارانہ تاثر پر سوال اٹھائے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:شاداب خان کی ناقابلِ یقین سنچری، پاکستان نے آخری وکٹ پر میچ جیت لیا

ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق، بعض مناظر بظاہر حقیقت سے قریب محسوس ہوتے ہیں، لیکن پوری ویڈیو میں جذباتی کشش اور کہانی کے بہاؤ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ دی انڈیپنڈنٹ سمیت بعض دیگر ذرائع نے بھی ناظرین کے ملے جلے اور تنقیدی ردعمل کی نشاندہی کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقت سے قریب دکھائی دینے والی تصاویر تیار کرنا اور ایک مکمل، مؤثر فلم تخلیق کرنا دو مختلف چیلنج ہیں۔ 
گروک کی ’’اوڈیسی‘‘ اس بحث کو مزید اہم بناتی ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں فلم سازی کے عمل کو کس حد تک تبدیل کرسکتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کرداروں، ماحول، جنگی مناظر اور وسیع بصری دنیا کی تخلیق میں مدد دے سکتی ہے، لیکن کامیاب فلم کے لیے مضبوط کہانی، کرداروں کی نشوونما، مکالمے، جذبات اور ہدایت کاری بھی ضروری ہیں۔ مجموعی طور پر، ایلون مسک کے گروک امیجن کی جانب سے ’’اوڈیسی‘‘ کی پہلی قسط کا اجرا مصنوعی ذہانت پر مبنی فلم سازی کے میدان میں ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے، لیکن مکمل دورانیے کی فلم بنانے کا اصل وعدہ ابھی تک پورا ہوتا دکھائی نہیں دیا۔ اب توجہ اس بات پر رہے گی کہ آیا گروک امیجن آئندہ اقساط کے ذریعے ایک مکمل اور فنکارانہ طور پر مؤثر فلم پیش کرسکے گا یا نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK