Updated: October 26, 2026, 6:04 PM IST
| Tel Aviv
۲۷؍ اکتوبر کے کنیسٹ انتخابات میں بنجامن نیتن یاہو کے اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلے کے پیش نظر پولیس نے ووٹنگ کے بعد بھی بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات کا فیصلہ کیا ہے؛ حکام کو اندیشہ ہے کہ اگر کسی فریق نے نتائج مسترد کیے تو سیاسی حامی سڑکوں پر نکل سکتے ہیں اور صورتِ حال پرتشدد رخ اختیار کرسکتی ہے۔
اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات سے پہلے ممکنہ انتخابی بدامنی کے خدشات کے پیش نظر پولیس ۲۲؍ ہزار اہلکار تعینات کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ تعداد ۲۰۲۲ء کے عام انتخابات کے مقابلے میں تقریباً ۵؍ ہزار زیادہ ہے۔ پولیس کی تیاریوں کا مرکز صرف پولنگ اسٹیشنوں کی حفاظت اور ووٹنگ کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنا نہیں، بلکہ نتائج کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹنا بھی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت یا اتحاد نے انتخابی نتائج کو مسترد کردیا، دھاندلی کے الزامات لگائے یا اپنے حامیوں سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی تو ملک میں تصادم اور بدامنی پیدا ہوسکتی ہے۔ یہ تفصیلات اسرائیلی نجی نشریاتی ادارے آئی ۲۴؍ نیوز کی رپورٹ میں ایک نامعلوم سینئر پولیس افسر کے حوالے سے دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک کے پارک میں ۸۹؍ ہزار ڈالر کا اے آئی روبوٹ، انسانوں سے میل جول کی تربیت
اسرائیلی پولیس حکام کے مطابق انتخابات کی تیاری گزشتہ ۳؍ ماہ سے جاری ہے۔ اس دوران ممکنہ واقعات سے نمٹنے کے لیے مختلف ہنگامی منصوبے تیار کیے گئے ہیں، جن میں ایگزٹ پول کے نتائج سامنے آنے، سرکاری انتخابی نتائج کے اعلان اور اس کے بعد کے دنوں میں ممکنہ احتجاج یا تشدد سے نمٹنے کے انتظامات شامل ہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا، ’’انتخابات کے اگلے دن کی حساسیت، انتخابی دن سے کم نہیں ہے۔‘‘ پولیس حکام کا اندازہ ہے کہ ووٹنگ کا عمل نسبتاً پُرسکون رہ سکتا ہے، لیکن جب رات ۱۰؍ بجے ایگزٹ پول سامنے آئیں گے تو سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے ردعمل سے صورتِ حال بدل سکتی ہے۔ کامیابی پر جشن منانے والے اور نتائج سے ناراض افراد بیک وقت سڑکوں پر نکل سکتے ہیں، جس سے جھڑپوں کا خطرہ پیدا ہوگا۔ پولیس کی توجہ بڑی سیاسی جماعتوں کے اجتماعات کی حفاظت پر بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تل ابیب میں ۴؍ اور یروشلم میں لیکوڈ پارٹی کے ایک بڑے اجتماع سمیت ۵؍ اہم سیاسی تقریبات کے لیے حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق سیاسی اجتماعات کے لیے بڑی تعداد میں اہلکاروں کی ضرورت ہوگی، جبکہ انتخابی نتائج کے بعد ممکنہ احتجاج کے لیے اضافی نفری بھی تیار رکھی جائے گی۔ وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کو بھی انتخابی سلامتی سے متعلق بریفنگ دی گئی، جس میں قومی سلامتی کے وزیر ایتامر بن گویر شریک تھے۔ اس اجلاس میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات، امن و امان کی صورتِ حال اور پولیس کی عملی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ <
اسرائیلی پولیس کے لیے سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ کوئی سیاسی لیڈر انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردے اور اپنے حامیوں کو احتجاج کے لیے متحرک کرے۔ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق سیکوریٹی اداروں میں ایک ایسے منظرنامے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جسے امریکی کیپیٹل ہل پر ۶؍ جنوری ۲۰۲۱ء کے حملے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس وقت سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں نے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کی کامیابی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امریکی کانگریس کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔ اسرائیل میں زیرِ غور خدشے کے مطابق اگر کسی سیاسی گروہ نے انتخابی نتائج کو جعلی قرار دیا اور ہزاروں افراد کو پارلیمان کی عمارت کی جانب مارچ کرنے کے لیے کہا تو پولیس کو غیر معمولی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، یہ ایک ہنگامی منظرنامہ ہے، کسی ممکنہ حملے یا تشدد کے واقع ہونے کی تصدیق نہیں۔ سابق اسرائیلی پولیس اور سیکوریٹی حکام نے خبردار کیا ہے کہ انتخابی نتائج پر تنازع کی صورت میں پولیس کی تیاری اور غیر جانب داری انتہائی اہم ہوگی۔ ان کے مطابق اگر ایک سیاسی گروہ نتائج کو مسترد کرکے سڑکوں پر نکلتا ہے اور مخالف گروہ انتخابی عمل کے دفاع میں جواباً مظاہرہ کرتا ہے تو دونوں جانب کے حامیوں کے درمیان تصادم ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں پولیس کو اضافی مدد کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ سابق حکام نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ شہریوں کے پاس اسلحے کی بڑی تعداد اور مختلف مقامات پر قائم مسلح حفاظتی گروہ حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ ان بیانات کو سابق حکام کے خدشات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے؛ ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تشدد ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انتخابات سے قبل ایران کے خلاف کارروائی پر نیتن یاہو اور فوجی سربراہ میں اختلاف
اسرائیل کے ۲۷؍ اکتوبر کے انتخابات وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ ان کے حامی ان کی حکومت کو حماس، حزب اللہ اور ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا سہرا دیتے ہیں، جبکہ مخالفین ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملے کے دوران سیکوریٹی کی ناکامیوں، طویل جنگوں اور حکومتی جواب دہی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں میں کسی ایک بڑے سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت ملنے کی ضمانت نظر نہیں آتی، جس کے نتیجے میں حکومت سازی کے لیے پیچیدہ مذاکرات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں چھوٹی جماعتوں کا کردار فیصلہ کن ہوسکتا ہے اور سیاسی بے یقینی انتخابات کے بعد بھی جاری رہ سکتی ہے۔ انتخابی سلامتی کے ماہرین کے مطابق پولیس کی ذمہ داری ووٹنگ کے دوران پولنگ اسٹیشنوں کی حفاظت تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اسے نتائج کے اعلان کے بعد پھیلنے والی غلط معلومات، دھاندلی کے غیر مصدقہ الزامات، سیاسی اجتماعات اور ممکنہ پرتشدد مظاہروں پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔ اسرائیل کے جمہوری اداروں کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ پولیس تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے، قانونی احتجاج کے حق کا تحفظ کرے اور کسی بھی تشدد یا انتخابی عمل میں مداخلت کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ انتخابات کے بعد بھی حفاظتی انتظامات جاری رہیں گے اور ضرورت کے مطابق نفری تعینات رکھی جائے گی۔