• Tue, 03 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسپیس ایکس نے خلا میں اے آئی ڈیٹا سینٹر لانچ کرنے کے لیے ایکس اے آئی کا حصول کر لیا

Updated: February 03, 2026, 4:08 PM IST | New York

دنیا کے امیر ترین شخص اور معروف ٹیک کاروباری ایلون مسک نے کہا ہے کہ ان کی ایرو اسپیس کمپنی اسپیس ایکس نے ان کے اے آئی اسٹارٹ اپ ایکس اے آئی کو حاصل کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے خلا میں اے آئی کی کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا بھی انکشاف کیا ہے۔

Elon Musk.Photo:INN
ایلون مسک۔ تصویر:آئی این این

دنیا کے امیر ترین شخص اور معروف ٹیک کاروباری ایلون مسک نے کہا ہے کہ ان کی ایرو اسپیس کمپنی اسپیس ایکس نے ان کے اے آئی اسٹارٹ اپ ایکس اے آئی  کو حاصل کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے خلا میں اے آئی کی کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا بھی انکشاف کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بڑی تعداد میں سیٹیلائٹس لانچ کیے جائیں گے جو خلا میں ڈیٹا سینٹرز کی طرح کام کریں گے۔
ایلون مسک نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ہر سال ۱۰؍ لاکھ ٹن سیٹیلائٹس خلا میں بھیجے جائیں اور ہر ٹن سے چند کلو واٹ کمپیوٹنگ پاور حاصل ہو، تو ہر سال تقریباً ۱۰۰؍گیگاواٹ اے آئی کمپیوٹنگ صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان سیٹیلائٹس کو چلانے اور ان کی نگرانی کے لیے اضافی اخراجات کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مستقبل میں زمین سے ہر سال  ایک ٹیراواٹ تک کی صلاحیت خلا میں بھیجنے کا راستہ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔
 اسپیس ایکس کے بانی نے کہا کہ جدید اے آئی کو چلانے کے لیے بہت زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے اور طویل مدت میں اس کا بہترین حل اسپیس بیسڈ اے آئی ہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خلا میں سورج کی روشنی تقریباً مسلسل دستیاب رہتی ہے، جس کی وجہ سے زمین پر قائم ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں بہت کم لاگت پر کمپیوٹنگ پاور حاصل کی جا سکتی ہے۔
 ایلون مسک کے مطابق اس طرح کی کم لاگت کمپیوٹنگ کی بدولت کمپنیاں اپنے اے آئی ماڈلز کو پہلے سے کہیں زیادہ تیزی اور بڑے پیمانے پر ٹرین کر سکیں گی  اور ڈیٹا پروسیسنگ بھی انتہائی تیز ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم سورج کی توانائی کا صرف دس لاکھواں حصہ بھی استعمال کرنا چاہیں تو وہ ہماری موجودہ تہذیب کی ضرورت سے دس لاکھ گنا زیادہ توانائی ہوگی۔ اسی لیے ایسے بھاری وسائل کے متقاضی کاموں کو زمین سے باہر یعنی خلا میں منتقل کرنا ہی سب سے بہتر حل ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سنیل دت جب انٹرویو لینے پہنچے تو نرگس نے کہا: میرے پاس دس منٹ ہیں

مسک نے بتایا کہ آج اے آئی کی ترقی بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز پر منحصر ہے، جنہیں بہت زیادہ بجلی اور کولنگ (ٹھنڈک) کی ضرورت ہوتی ہے، جو زمین پر ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کے لیے بڑھتی ہوئی بجلی کی ضرورت کو صرف زمینی وسائل سے پورا کرنا مشکل ہے  اور ایسا کرنے سے انسانوں اور ماحول پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:انڈونیشیا: خواتین حج افسران کا تاریخ کا سب سے بڑا دستہ تعینات کرنے کی تیاری


اسپیس ایکس کا اسٹارشپ راکٹ ۲۰۲۶ء میں کہیں زیادہ طاقتور وی تھری  اسٹارلنک سیٹیلائٹس کو خلا میں بھیجنا شروع کرے گا۔ ہر لانچ کے ذریعے موجودہ سیٹیلائٹس کے مقابلے میں۲۰؍ گنا زیادہ صلاحیت شامل کی جائے گی۔ ایلون مسک نے بتایا کہ مستقبل میں ہر گھنٹے ۲۰۰؍ٹن وزن کے ساتھ پرواز کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے ذریعے لاکھوں ٹن سامان خلا میں پہنچایا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ہی اگلی نسل کے ڈائریکٹ ٹو موبائل سیٹیلائٹس بھی لانچ کیے جائیں گے، جو زمین کے ہر کونے میں موبائل نیٹ ورک فراہم کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK