فرانس کے صدرنے کہا کہ اے آئی کو اختراع اور رفتار کے ساتھ ساتھ ذمہ دار بنانے کے لیے فرانس، یورپ اور ہندوستان کو مل کرکام کرناچاہئے، ہندوستان کو تہذیبی طاقت بھی قراردیا۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 8:39 AM IST | New Delhi
فرانس کے صدرنے کہا کہ اے آئی کو اختراع اور رفتار کے ساتھ ساتھ ذمہ دار بنانے کے لیے فرانس، یورپ اور ہندوستان کو مل کرکام کرناچاہئے، ہندوستان کو تہذیبی طاقت بھی قراردیا۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے جمعرات کو مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر پر مبنی شناختی کارڈ، جن دھن کھاتوں، ہیلتھ کارڈز اور یو پی آئی جیسی سہولیات کا حوالہ دیتے ہوئے ٹیکنالوجی کو عام آدمی تک پہنچانے میں ہندوستان کی تعریف کی۔ انہوں نے اے آئی جیسی ٹیکنالوجی کے لیے عالمی اصول و ضوابط وضع کرنے پر بھی زور دیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ اور نمائش ۲۰۲۶ء‘ میں شرکت کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ اے آئی کو اختراع اور رفتار کے ساتھ ساتھ ذمہ دار بنانے کے لیے فرانس، یورپ اور ہندوستان کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے گزشتہ سال پیرس میں منعقدہ اے آئی کانفرنس میں عالمی معاشرے کو مضبوط کرنے کے لیے ہندوستان اور فرانس کی مشترکہ پہل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال کے اندر ہی اس کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔ انہوں نے فرانس میں ۱۵؍ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کی اپنی حکومت کی پہل کو ’تہذیبی موضوع ‘قرار دیا۔ انہوں نے اے آئی کو شہریوں پر مرکوز بنانے کے لیے حکومتوں اور کمپنیوں کے درمیان مضبوط شراکت داری پر زور دیا۔
ممبئی سے ہوتے ہوئے دہلی پہنچنے والے فرانسیسی صدر نے اپنی تقریر کا آغاز ممبئی کے ایک خوانچہ فروش کی کہانی سے کیا جو ۱۰؍ سال پہلے بینک اکاؤنٹ نہیں کھول پا رہا تھا کیونکہ اس کے پاس کوئی شناخت یا رسمی پتہ نہیں تھا۔ آج اس کا اکاؤنٹ ہے اور وہ ملک بھر کے اپنے صارفین سے ڈیجیٹل ادائیگی بلا خوف و خطر وصول کرتا ہے۔ اس مثال کے ذریعے انہوں نے ہندوستان میں ۱ء۴؍ بلین لوگوں کے ڈیجیٹل شناختی نظام اور اس سے صحت جیسی سہولیات کی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے لوگوں کی روزمرہ زندگی بدل دی ہے۔ انہوں نے ہندوستان کو ایک تہذیبی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا ’’ مستقبل ان ممالک کا ہوگا جو ’اختراع کو ذمہ داری کے ساتھ اور ٹیکنالوجی کو انسانیت کے ساتھ‘ جوڑتے ہیں۔ ہندوستان نے۱ء۴؍ بلین لوگوں کو ڈیجیٹل معیشت سے جوڑ کر وہ کر دکھایا جسے دنیا کبھی ناممکن کہتی تھی۔ ‘‘انہوں نے بتایا کہ ہندوستان اب ادائیگی کی ایک ایسی بنیادی سہولت چلاتا ہے جو ہر ماہ۲۰؍ ارب لین دین سنبھالتی ہے اور ملک میں ’۵۰؍ کروڑ ڈیجیٹل ہیلتھ کارڈ‘ جاری کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا’’اسے انڈیا اسٹیک کہتے ہیں اور انڈیا اے آئی امپیکٹ کانفرنس اسی کے بارے میں ہے۔ ‘‘فرانسیسی صدر نے کہا کہ اے آئی کو انسانی ترقی کے لیے ایک تبدیلی لانے والی طاقت کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے گزشتہ سال پیرس میں ہندوستان اور فرانس کے تعاون سے منعقدہ اے آئی ایکشن سمٹ کا ذکر کرتے ہوئے اسے ٹیکنالوجی کے عالمی اصول طے کرنے میں ایک اہم موڑ قرار دیا۔