مہاراشٹر کےسابق وزیر اور موجودہ رکن اسمبلی جتیندر اوہاڑ نے کہاکہ اندراج میں لاپروائی برتنے والے شہری سرکاری اسکیموں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 01, 2026, 3:03 PM IST | Iqbal Ansari | Thane
مہاراشٹر کےسابق وزیر اور موجودہ رکن اسمبلی جتیندر اوہاڑ نے کہاکہ اندراج میں لاپروائی برتنے والے شہری سرکاری اسکیموں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
مہاراشٹر کے سابق وزیر اور موجودہ رکن اسمبلی جتیندر اوہاڑ نے کہاہے کہ شہری ووٹرلسٹ کی باریکی سے جانچ کے سروے ’ایس آئی آر‘(اسپیشل انٹینسیوریویژن) میں لاپروائی نہ برتیں کیونکہ اگر ایس آئی آر میں ان کا نام ووٹر لسٹ سے کٹ گیا تو انہیں اپنی شہریت ثابت کرنی ہوگی جو ایک مشکل مرحلہ ہے اور شہریت ثابت کرنے سے ناکامی پرشہریوں کو بنگلہ دیشی اور غیر ملکی قرار دے کر ملک سے باہر نکالا جاسکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ جن شہریوں کا ووٹر لسٹ میں نام نہیں ہوگا انہیں سرکاری اسکیموں سے محروم کر دیا جائے گا۔ رکن اسمبلی جتیندر اوہاڑ نے اس ضمن میں ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جسے انہوں نے اپنے انسٹا گرام پیچ پر جاری کیا ہے جو سوشل میڈیا پر بھی گشت کر رہا ہے۔ اپنے ویڈیو میں جتیندر اوہاڑ نے پورے مہاراشٹر کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی بنگال اور بہار ان دونوں ہی ریاستوں میں ایس آئی آر ہو چکا ہے۔ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری اور بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کچھ روز قبل بات چیت کے دوران یہ کہا ہےکہ ایس آئی آر میں جس کا نام کٹ گیا ہے اور جو ووٹر لسٹ میں نہیں آسکے ہیں ، ان کا راشن کارڈ سے نام کٹ جائے گا، سبھی سرکاری اسکیموں سے انہیں محروم کر دیاجائے گااور آنے والے دنوں میں ان سے ہندوستان کے شہری ہونے کا ثبوت مانگا جائےگا یعنی ان کی شہریت پر سوالیہ نشان اٹھ جائے گا۔ اس خطرے کو پہچانئے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ مَیں ۲۔ ۳؍ مہینے سے عوام سے اپیل کر رہا ہوں کہ اگر ابھی لاپروائی کروں گا اور گھر پر بیٹھو گا تو آگے کی لڑائی بہت مشکل ہو جائے گی۔ کیونکہ ایس آئی آر کے ساتھ سپریم کورٹ ہے اور ہم مانتے ہیں کہ آئین سے اوپر کوئی /کچھ نہیں۔ سنویدھان تو پورا سپریم کورٹ کےہاتھ میں ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ممبئی کےدادر میں واقع ’’اشوک وڑا پاؤ‘‘ دنیا کے۴۰؍ مشہور ترین سینڈوچ میں شامل
رکن اسمبلی نے کہا کہ’’ ایس آئی آر ایک سازش ہے، خصوصاً ملک کے پچھڑے /پسماندہ اور مسلمانوں کے خلاف کی گئی سازش ہے۔ اس سازش سے ہمیں مقابلہ کرنا ہے اور اپنی شہریت ثابت کرنا ہے۔ ہم کوئی بنگلہ دیشی نہیں اور نہ ہم میں سے کوئی بنگلہ دیشی ہے۔ نہ ہندو اور نہ ہی مسلمان بنگلہ دیشی ہے۔ اور اگر کوئی بنگلہ دیشی ہے تو اسے یقینی طور پر ملک سے نکال دینا چاہئے۔ ہم بھی بنگلہ دیشیوں کے خلاف ہے اور ہمیں بھی بنگلہ دیشی ووٹر نہیں چاہئے۔ ‘‘جتیندر اوہاڑ نے الیکشن کمیشن نے متعدد سوالا ت بھی پوچھے۔ ان مطابق ’’جن ووٹروں کا نام ۱۹۹۵ء کی ووٹر لسٹ میں ہے لیکن ۲۰۰۲ء کی ووٹنگ لسٹ میں نہیں ہےانہیں کوئی موقع دیاجائے گا یا نہیں ؟جو ووٹر ۲۰۲۴ء کے اسمبلی کے انتخابات میں ووٹنگ کر چکے ہیں لیکن ان کا نام میونسپل کارپوریشن کے الیکشن میں کاٹ دیا گیا تو وہ ووٹر ہے یا نہیں ؟‘‘
الیکشن کمیشن کی خدمات سے متعلق رکن اسمبلی نے کہاکہ’’الیکشن کمیشن کے پاس بوتھ لیول آفیسر ( بی ایل او) نہیں ہے، تمہارا الیکشن آفس کام نہیں کر رہا ہے، فارم نمبر ۷؍ اور ۸؍ پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اس سے صاف ہے کہ ووٹروں کے نام کا ٹنے کی سازش رچی جارہی ہے۔ اگر ہم اس پر توجہ نہیں دیں گے تو آگے کی لڑائی لڑنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: کیا کسی بڑے حادثے کے بعد کلسٹر اسکیم نافذ کی جائے گی؟
این سی پی (شرد)کے سینئر لیڈر جتیندر اوہاڑ نے ہاتھ جوڑ کر عوام سے اپیل کی ہے کہ’’ ایس آئی آر میں نام درج کروانے میں لاپروائی نہ کیجئے اور پوری توجہ دیجئے کہ اس سروے میں آپ کا نام ووٹر لسٹ سے نکالا نہ جائے۔ یہ مَیں اپنے لئے نہیں بلکہ آپ کے حق میں اپیل کر رہا ہوں۔ اگر آپ توجہ نہیں دیں گے تو ہندوستان سے باہر نکال دیئے جائیں گے اور اس میں سب سے بڑا رول سپریم کورٹ کا ہوگا۔ ‘‘واضح رہے کہ ۳۰؍ جون ۲۰۲۶ءسے مہاراشٹرمیں ایس آئی آر کا سروے شروع ہونے والا ہے۔ اس دوران بی ایل او گھر گھر جاکر ووٹروں سے ۲۰۰۲ء میں ان کی ووٹر لسٹ کی تفصیل اور موجودہ ووٹر لسٹ کی تفصیل پوچھ کر درج کریں گے۔ جن ووٹروں کاموجودہ ووٹر لسٹ میں نام ہے لیکن ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں نام نہیں ہے تووہ اپنے رشتہ دار (والد/والدہ/دادا / دادی/نانا/ نانی) کی تفصیل بتا سکتے ہیں۔ جن ووٹروں کا نام ۲۰۰۲ کی ووٹر لسٹ میں نہیں تھا اور ان کے مذکورہ بالا رشتہ داروں کا نام بھی نہیں تھا تو انہیں الیکشن کمیشن کے ذریعے بتائے گئے ۱۲؍ دستاویزات میں سے کوئی ایک دستاویز پیش کرنا ہوگا۔