کے ڈی ایم سی کی خطرناک عمارتوں کی ازسر نو تعمیر کیلئے پالیسی مرتب کرنے کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: May 31, 2026, 12:18 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
کے ڈی ایم سی کی خطرناک عمارتوں کی ازسر نو تعمیر کیلئے پالیسی مرتب کرنے کا مطالبہ۔
کلیان۔ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے حدودمیں خطرناک اور انتہائی خطرناک عمارتوں کی تعداد ۵۰۰؍ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ہزاروں مکین اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ان خستہ حال عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اس کے باوجود میونسپل انتظامیہ کی جانب سے ایسی عمارتوں کے بازآبادکاری اور ری ڈیولپمنٹ کے لئےاضافی ایف ایس آئی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انتظامیہ کسی المناک حادثے اور جانی نقصان کے بعد ہی کلسٹر اسکیم نافذ کرے گی۔
اس ضمن میں شیو سینا (ادھو) کے کارپوریٹر سنکیش بھوئیر نے میونسپل کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ خطرناک اور انتہائی خطرناک عمارتوں کی ری ڈیولپمنٹ کیلئے فوری طور پر جامع پالیسی نافذ کی جائے۔ موصولہ اعداد و شمار کے مطابق میونسپل حدود میں اس وقت ۴۵۱؍ خطرناک عمارتیں موجود ہیں جن میں سے ۲۲۵؍ عمارتوں کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ خطرناک عمارتوں کی مرمت ممکن ہے تاہم انتہائی خطرناک عمارتوں کو منہدم کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ ان عمارتوں میں رہائش پذیر افراد میں کرایہ دار، ذیلی کرایہ دار اور پگڑی نظام کے تحت مقیم خاندان شامل ہیں۔یہ مسلسل خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شدید گرمی سے آوارہ جانوروں اور پرندوں کے بیمار ہونے کی شرح میں ۲۰؍ فیصد اضافہ
میونسپل انتظامیہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ان عمارتوں کے مکینوں کی بازآبادکاری کلسٹر اسکیم کے ذریعے کی جائے گی۔ اس مقصد کیلئے ۴۱؍ مقامات پر کلسٹر منصوبہ نافذ کرنے کا خاکہ تیار کیا گیا ہے۔ ان مقامات میں سب سے پہلے کلیان کے کولسے واڑی اور ڈومبیولی کے دت نگر۔آئرے علاقوں میں منصوبہ شروع کیا جائے گا جہاں بایومیٹرک سروے بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔
شیوسینا کارپوریٹر سنکیش بھوئیر نے نشاندہی کی کہ کلیان اور ڈومبیولی میں ۶؍ اور ۹؍ میٹر چوڑی سڑکوں کے کنارے واقع متعدد خطرناک عمارتیں کی ری ڈیولپمنٹ صرف اس وجہ سے ممکن نہیں ہو پا رہی کہ انہیں اضافی ایف ایس آئی کی سہولت حاصل نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر شہری ترقی ایکناتھ شندے نے پورے مہاراشٹر کیلئے یکساں ترقیاتی ضابطے نافذ کئے ہیں مگر تھانے میونسپل کارپوریشن اور کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن کے معاملے میں مختلف پیمانے اپنائے جا رہے ہیں۔ اگر تھانےمیں خطرناک عمارتوں کی بازآبادکاری کیلئے خصوصی مراعات دی جا سکتی ہے تو کے ڈی ایم سی کے شہریوں کو بھی وہی سہولت ملنی چاہیے۔