• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلم خواتین کی دینی و اخلاقی تربیت اور خاندانی نظام کے استحکام پر زور

Updated: October 13, 2026, 1:16 PM IST | Inquilab News Network | Nanded

’’تم سے ہے تعمیر ِ امت، تم سے ہے تہذیب ِ حیات‘‘ کے عنوان سے جماعت اسلامی ہند کی ناندیڑ میں ضلعی کانفرنس، فکر ِ آخرت اور اسلامی طرزِ زندگی جیسے موضوعات پرگفتگو۔

A view of the Jamaat-e-Islami Hind conference held in Nanded. Photo: INN
ناندیڑ میںمنعقدہ جماعت اسلامی ہند کی کانفرنس کامنظر۔ تصویر: آئی این این

ناندیڑ(نامہ نگار):مسلم خواتین کی دینی و اخلاقی تربیت ، خاندانی نظام کے استحکام اور معاشرتی زندگی میں خواتین کے تعمیری کردار کو اجاگر کرنے کے مقصد سے جماعت اسلامی ہند، حلقہ مہاراشٹر، ضلع ناندیڑ کے زیر ِ اہتمام خواتین کی یک روزہ ضلعی کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کا مرکزی عنوان ’’تم سے ہے تعمیر ِ امت، تم سے ہے تہذیب ِ حیات‘‘ تھا۔ پروگرام میں خواتین کی دینی و اخلاقی ذمہ داریوں، نسلِ نو کی تربیت، عبادات، فکر ِ آخرت، گھریلو زندگی کے مسائل اور معاشرتی اصلاح جیسے اہم موضوعات  پر توجہ دلائی گئی۔

کانفرنس کی مختلف نشستوں میں علمائے کرام، دینی اسکالرز اور مقررین نے اپنے موضوعات کے ذریعے خواتین کی انفرادی، خاندانی اور اجتماعی زندگی سے وابستہ اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ اجتماع کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ معاشرے کی تعمیر، نئی نسل کی کردار سازی اور تہذیبی اقدار کے تحفظ میں خواتین کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔کانفرنس کا آغاز درسِ قرآن سے ہوا، جسے جماعت اسلامی ہند، مہاراشٹر کی مجلسِ شوریٰ کے رکن محمد اظہر الدین نے پیش کیا۔ انہوں نے قرآن مجید کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنے اور انہیں روزمرہ زندگی میں اختیار کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دینی تعلیمات سے وابستگی انفرادی اصلاح کے ساتھ ساتھ خاندان اور معاشرے کی بہتری کے لیے بھی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی مسلم امیدوارعبدل السید پر تنقید، نام بگاڑ کر پکارا، عبدل کا جوابی حملہ

افتتاحی کلمات میں ناظمِ ضلع عبدالغفار چودھری نے اجتماع کے انعقاد کی غرض و غایت بیان کی اور کانفرنس کے انتظامات کی تفصیلات پیش کیں۔اس کے بعد جماعت اسلامی ہند، حلقہ مہاراشٹر کے امیر حلقہ مولانا الیاس خان فلاحی نے کلیدی خطاب کیا۔ ان کے خطاب کا عنوان ’’مسلم عورت تعمیر  امت اور تہذیب ِ حیات کی معمار‘‘ تھا۔ انہوں نے مسلم خواتین کے مقام و مرتبے، ان کی دینی و اخلاقی ذمہ داریوں اور معاشرے کی تشکیل میں ان کے کردار کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ ماں کی حیثیت سے بچوں کی تربیت، بیٹی کی حیثیت سے خاندانی اقدار کی منتقلی اور معاشرے کی ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے مثبت کردار ادا کرنا خواتین کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں خواتین کو تعلیم، خاندانی ذمہ داریوں، معاشرتی تبدیلیوں اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات جیسے مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں دینی شعور، اخلاقی پختگی اور درست فیصلہ سازی کی صلاحیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔مرکزی مجلسِ شوریٰ کی رکن عطیہ صدیقہ نے ’’عبادات اور فکر آخرت: اصلاحِ تہذیب نسل کی بنیاد‘‘ کے عنوان سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ عبادات کو محض رسمی عمل تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے اخلاقی اور عملی اثرات کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح فکر ِ آخرت انسان کو اپنے اعمال کا جائزہ لینے، حقوق العباد کی ادائیگی اور اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نبھانے کی ترغیب دیتی ہے۔  مقررین نے اصلاح معاشرہ کےلئےخواتین کردارکو اہمیت کے ساتھ واضح کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK