Inquilab Logo Happiest Places to Work

انسانی لمس کی جگہ کبھی نہیں لی جا سکتی: امان اور ایان علی بنگش کا اے آئی پر تبصرہ

Updated: June 09, 2026, 1:03 PM IST | Mumbai

ایک انٹرویو میں امان علی بنگش اور ایان علی بنگش نے اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کلاسیکی موسیقی کے بدلتے ہوئے منظرنامے، اپنے گریمی ایوارڈ یافتہ سفر، موسیقی میں مصنوعی ذہانت ( اے آئی) کے کردار سےمتعلق گفتگو کی۔

Bangash Brothers.Photo:INN
بنگش برادران۔ تصویر:آئی این این

کلاسیکی موسیقی کو اکثر ایک محدود دائرے میں قید سمجھا جاتا ہے، جیسے یہ صرف سنجیدہ، سخت اصولوں والی اور آج کی نسل سے کٹی ہوئی ہو۔ لیکن جب آپ امان علی بنگش اور ایان علی بنگش سے بات کرتے ہیں تو وہ اسے نہایت سادہ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ حال ہی میں لولاپالوزا انڈیا میں پرفارمنس اور گریمی ایوارڈ جیتنے کے بعد، یہ سرود نواز ثابت کر رہے ہیں کہ کلاسیکی موسیقی نہ صرف لازوال ہے بلکہ موجودہ دور سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
 ایک انٹرویو میں دونوں بھائیوں نے موسیقی سے متعلق غلط تصورات کو توڑنے، دلائی لاما کے ساتھ گریمی ایوارڈ جیتنے کے تجربے، اپنے والد استاد امجد علی خان سے حاصل ہونے والے سبق اور اس منصوبے کی کہانی بیان کی جو مائیکل جیکسن کے ساتھ مکمل نہ ہو سکا۔ انہوں نے نوجوان نسل، کلاسیکی موسیقی اور مصنوعی ذہانت پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوتواوادیوں کی وجہ سے سانگلی میں مسلم خاندان علاقہ چھوڑنے پر مجبور


 کلاسیکی موسیقی کے بارے میں سب سے بڑا غلط تصور کیا ہے؟ امان علی بنگش نے کہا کہ بعض موسیقار جب کالجوں یا عوامی پروگراموں میں پرفارم کرتے ہیں تو بہت زیادہ روایتی اور سخت انداز اختیار کر لیتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ ہر وقت تعلیم ہی دیتے رہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے ہندوستانی موسیقار پرفارمنس کے دوران بھی لیکچر دینا شروع کر دیتے ہیں۔ جب آپ اسٹیج پر پرفارم کرنے جائیں تو آپ کا کردار ایک تفریح فراہم کرنے والے اور سامعین کو اپنے ساتھ جوڑنے والے فنکار کا ہونا چاہیے، نہ کہ صرف استاد کا جو ہر وقت سبق پڑھا رہا ہو۔

یہ بھی پڑھئے:پرگتی شریواستو ویدانگ رائنا کی فلم میں اہم کردار میں نظر آئیں گی


 موسیقی میں مصنوعی ذہانت (AI) بھی آج کی نوجوان نسل کے لیے ایک بڑی تشویش بن چکی ہے۔ آپ اے آئی  کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟   ایان علی بنگش   نے کہاکہ میرے خیال میں  اے آئی ایک نئی چیز ہے جو ابھی منظرِ عام پر آئی ہے۔ ظاہر ہے، جہاں تک موسیقی اور ہمارے فن کا تعلق ہے، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کس حد تک اس کا استعمال مناسب ہے اور کہاں حد سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ انسانی لمس اور انسانی جذبات، جو موسیقی کی پیشکش اور خاص طور پر کلاسیکی موسیقی میں نہایت اہم عناصر ہیں، انہیں اے آئی  کے ذریعے مکمل طور پر اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ میرا مطلب ہے کہ  اے آئی  شاید اس کے ساتھ ساتھ موجود رہ سکے، اور ممکن ہے کہ کلاسیکی موسیقی میں اے آئی  کی اپنی ایک الگ دنیا بھی بن جائے۔ لیکن انسانی لمس اور احساسات کی جگہ کبھی نہیں لی جا سکتی۔ یہ ناقابلِ بدل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK