Updated: March 27, 2026, 10:05 PM IST
| Istanbul
ترک صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیلی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنجامن نیتن یاہو کی حکومت مذہبی اور فرقہ وارانہ بیانیے کے ذریعے خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع لبنان سمیت دیگر علاقوں تک پھیل سکتا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر عدم استحکام پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیل کی موجودہ پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنجامن نیتن یاہو کی حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جو نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں بلکہ ایک وسیع تر تنازع کو جنم دینے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ اپنے حالیہ بیان میں اردگان نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی حکمت عملی ایک ’’نفرت اور مذہبی جواز‘‘ پر مبنی نیٹ ورک کا حصہ ہے، جس کے ذریعے مسلسل فوجی کارروائیوں کو جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تل ابیب کے عزائم ایران کے ساتھ موجودہ کشیدگی تک محدود نہیں بلکہ اس سے آگے بڑھتے ہوئے لبنان جیسے دیگر ممالک تک پھیل سکتے ہیں۔ اردگان کے مطابق، یہ صورتحال ایک ’’طریقہ کار کے تحت پھیلاؤ‘‘ کی نشاندہی کرتی ہے، جس کے ذریعے خطے میں جنگ کے دائرے کو وسعت دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اردگان کا عالمی نظام پر سوال، ’’دوسری جنگ عظیم کا آرڈر بحران میں‘‘
ترک صدر نے کہاکہ ’’دنیا ایک ایسے مرحلے پر ہے جہاں دشمنی کو جان بوجھ کر بڑھایا جا رہا ہے، اور یہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی قیادت فرقہ وارانہ اور مذہبی بیانیے کو استعمال کرتے ہوئے فوجی کارروائیوں کو جواز فراہم کر رہی ہے، جس سے نہ صرف موجودہ بحران گہرا ہو رہا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں طویل مدتی امن کے امکانات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور خطے میں مختلف محاذوں پر تناؤ بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہرمز بحران سے عالمی معیشت ہل گئی، اسٹاک کریش، تیل و سونے پر دباؤ
انقرہ کا موقف اس حوالے سے مستقل رہا ہے کہ یکطرفہ فوجی اقدامات نہ صرف علاقائی سالمیت بلکہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ ترکی نے بارہا زور دیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ اردگان نے اپنے بیان میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھے اور فوری اقدامات کرے تاکہ خطے کو ایک بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ترکی انصاف، انسانی اقدار اور امن کے قیام کے لیے اپنے اصولی موقف پر قائم رہے گا اور خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رکھے گا۔