Updated: March 27, 2026, 9:04 PM IST
| New York
ایران جنگ کے اثرات اب عالمی معیشت پر واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں عالمی اسٹاک مارکیٹس میں شدید گراوٹ دیکھی گئی۔ اسی دوران ترکی نے مالی دباؤ کے تحت اربوں ڈالر مالیت کا سونا فروخت کیا، جبکہ امریکی حکام نے ہرمز کے ذریعے توانائی کے بہاؤ میں تبدیلی کی نشاندہی کی ہے۔
(۱) مارکو روبیو کا بیان، ہرمز سے توانائی کی بڑھتی ہوئی ترسیل
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی بڑھتی ہوئی مقدار گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ توانائی کا بہاؤ بڑھ رہا ہے، جو ایک اہم اشارہ ہے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں پیش رفت سے جڑی ہو سکتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہرمز عالمی توانائی کا اہم ترین راستہ بنا ہوا ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ کشیدگی کے باوجود توانائی سپلائی مکمل طور پر رکی نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا دو ٹوک مؤقف، امریکہ پر جنگی جرائم کا الزام، ہرمز پر اختیار کا اعلان
(۲) ’’سیاہ جمعرات‘‘، ۲۰۲۶ء کا سب سے بڑا اسٹاک مارکیٹ کریش
ایران جنگ کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں تک پہنچ گئے، جہاں ’’سیاہ جمعرات‘‘ کے نام سے ۲۰۲۶ء کا سب سے بڑا اسٹاک مارکیٹ کریش ہوا۔ رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے اور ہرمز بحران کے باعث سرمایہ کاروں میں خوف پیدا ہوا۔ نتیجتاً عالمی مارکیٹس میں شدید گراوٹ دیکھی گئی۔ ذرائع نے کہا کہ یہ کریش موجودہ سال کی سب سے بڑی مالیاتی ہلچل ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر براہ راست پڑ رہے ہیں۔
(۳) خلیجی تیل اور گیس انفراسٹرکچر کو ۲۵؍ بلین ڈالر نقصان
ایران جنگ کے نتیجے میں خلیجی ممالک کے تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو تقریباً ۲۵؍ بلین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ تنصیبات میں ریفائنریز اور گیس فیلڈز شامل ہیں، جبکہ بحالی کا عمل سست بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مکمل بحالی میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔ یہ نقصان ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے اثرات توانائی کے شعبے پر گہرے ہیں۔ یہ پیش رفت عالمی معیشت کیلئے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان قطر نہیں، سفارتکاروں کو نقصان ہوا تو اسرائیل کو سخت جواب دیں گے: پاکستان
(۴) ترکی نے جنگی دباؤ میں ۸؍ بلین ڈالر کا سونا فروخت کر دیا
ترکی نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مالی دباؤ کم کرنے کیلئے تقریباً ۶۰؍ ٹن سونا (۸؍ بلین ڈالر) فروخت یا تبدیل کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ اقدام مالی استحکام برقرار رکھنے کیلئے کیا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ جنگ کے اثرات نے کئی ممالک کو مالی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ایران جنگ کے اثرات عالمی مالیاتی نظام تک پہنچ چکے ہیں۔