Updated: March 27, 2026, 9:05 PM IST
| Ankara
ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم عالمی نظام شدید قانونی بحران کا شکار ہو چکا ہے اور اس کے ادارے اپنی افادیت کھو رہے ہیں۔ استنبول میں ہونے والے اسٹریٹجک کمیونیکیشن سمٹ سے خطاب میں انہوں نے بڑھتی جنگوں، نسل کشی اور طاقت کے استعمال کو عالمی عدم استحکام کی بڑی وجوہات قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے فوری امن کی ضرورت پر زور دیا۔
ترکی کے صدر طیب اردگان۔ تصویر: آئی این این
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے عالمی نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے فاتحین کے ذریعہ قائم کیا گیا عالمی آرڈر آج تقریباً تمام شعبوں میں ’’گہرے قانونی بحران‘‘ کا شکار ہے۔ یہ بیان انہوں نے استنبول میں منعقدہ انٹرنیشنل اسٹریٹجک کمیونیکیشن سمٹ۲۰۲۶ء (اسٹریٹ کام سمٹ ۲۶ء) کو ویڈیو پیغام کے ذریعے دیتے ہوئے دیا، جسے ترکئی کے کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ نے منعقد کیا تھا۔ اردگان نے کہاکہ ’’دوسری جنگ عظیم کے بعد کے آرڈر کو اس کے فاتحین کے ذریعہ بنایا گیا، آج تقریباً تمام ڈومینز میں ایک گہرے قانونی بحران کا سامنا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس نظام کو قائم رکھنے والے ادارے، قوانین اور اقدار بتدریج اپنی مؤثریت کھو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا دو ٹوک مؤقف، امریکہ پر جنگی جرائم کا الزام، ہرمز پر اختیار کا اعلان
اپنے خطاب میں انہوں نے موجودہ عالمی صورتحال کو ایک ’’چیلنجنگ دور‘‘ قرار دیا، جس میں جنگوں، نسل کشی اور مختلف بحرانوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں تنازعات کو بات چیت کے بجائے طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘ اردگان نے عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے مقابلے کا بھی ذکر کیا، جو اب صرف فوجی میدان تک محدود نہیں بلکہ توانائی، ٹیکنالوجی اور تجارت جیسے شعبوں تک پھیل چکا ہے۔
انہوں نے خاص طور پر غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے سانحات کا خاتمہ اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ ترک صدر نے غلط معلومات اور مسخ شدہ بیانیے کو بھی ایک بڑا عالمی چیلنج قرار دیا اور اس کے مقابلے کے لیے مؤثر مواصلاتی نظام اور عالمی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے حکومتوں، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی اور تھنک ٹینکس سے اپیل کی کہ وہ اس حوالے سے زیادہ فعال کردار ادا کریں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی وارننگ، پاکستان ثالثی میں سرگرم، ایران جنگ ختم کرنے کی کوششیں تیز
اپنے پیغام کے اختتام پر اردگان نے کہاکہ ’’ترکی انسانی اقدار اور انصاف پر مبنی اپنے اصولی اور پرعزم موقف کو برقرار رکھے گا، اور نہ صرف ہمارے خطے بلکہ پوری دنیا میں امن اور سلامتی کے قیام کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائے گا۔‘‘ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر جغرافیائی کشیدگی، علاقائی تنازعات اور طاقت کے نئے توازن کے حوالے سے بحث تیزی سے بڑھ رہی ہے۔