قیامت خیز گرمی اورجنگل کی آگ سے یورپ بےحال

Updated: July 21, 2022, 12:25 PM IST | Agency | Brussels

برطانیہ میںتعلیمی ادارے بند ، لاکھوں افراد گھروں میں محصور ۔ گرمی کی لہر میں مزید شدت،کھیتوں، ایئر پورٹس اور ٹرین کی پٹریوں کا شدید نقصان پرتگال میں گرمی کی لہر سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز ۔ بلجیم کے شہر ڈی ہان میں ریت کے ٹیلوں میں بھی آگ ،کئی گاڑیاں جل کر راکھ

In Athens, the capital of Greece, the smoke is near the population.Picture:AP/PTI
یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں آبادی کے قریب دھواں ہی دھواں۔۔ تصویر: اےپی/پی ٹی آئی

 مغربی یورپ  ان دنوں شدید گرمی کا سامنا  کرناہے۔ یہاں کے جنگل میں لگی آگ کی وجہ سے درجۂ حرارت  میں مسلسل  اضافہ رہا ہے۔
 بر طانیہ میں طویل عرصے کے بعد شدید گرمی 
 بی بی سی نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ برطانیہ میں  طویل عرصے بعدشدید گرمی ہے جہاں  موسم عام طور پر سرد یا  متعدل  رہتاہے لیکن  اس بار  عوام کو  ۴۰؍   ڈگری سینٹی گریڈ تک کی `شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران شدید گرمی کے  سبب لندن کے مشرقی علاقوں میں آتشزدگی کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں آگ نے قریبی علاقوں کو بھی اپنی  زدمیں لے لیا۔ادھر لندن کے کئی میدانی علاقوں میں گھاس میں بھی آگ لگنےسے اہم شاہراہوں  پر دھواں پھیل گیا، آگ کے بھڑکنے سے مذہبی مقامات بھی متاثر ہوئے جن میں ایک تاریخی چر چ بھی شامل ہے۔ 
ریلوے نظام بھی متاثر 
 گرمی کی لہر کے سبب برطانیہ کے مشرقی اور مغربی علاقوں کا ریلوے نظام بھی متاثر ہوا ہے۔بجلی کی کمپنیوں کے مطابق انہیں اہم شہروں میں مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا  ہے۔لندن فائر فائٹنگ اتھاریٹی نے عوام کو آگ سے محفوظ رہنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔لندن فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ ان کا  کا عملہ مسلسل عوام کی خدمت کیلئے ضروری اقدامات کر رہا ہے، ساتھ ہی کسی بھی سنگین واقعے سے نمٹنے کیلئے ہم اپنے وسائل کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔
 لند ن کے میئر کی درخواست 
   لندن کے میئر صادق خان نے بھی عوام کو محفوظ رہنے اور غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرنے کی درخواست کی ہے۔ بدھ کو برطانیہ کی تاریخ کے گرم ترین دن پر درجۂ حرارت۴۰؍ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ برطانوی حکومت کی جانب سے تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں جبکہ لاکھوں افراد گھروں میں محصور ہو گئے۔ برطانیہ میں گرمی میں مزید اضافہ کی پیش گوئی کی ہے  اور درجۂ حرارت ۴۳؍ سینٹی گریڈ تک جانے کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ 
گرمی کی لہر  میں شدت 
  ا دھر دیگر یورپی ممالک میں بھی گرمی کی لہر نے شدت اختیار کرلی ہے جس سے کھیتوں، ایئر پورٹس اور ٹرین کی پٹریوں کو شدید نقصان  ہوا ہے ، نظامِ زندگی  مفلوج ہوگیا ہے۔ میڈیار  پورٹس کے مطابق یورپ کے بعض ممالک میں درجۂ حرارت۴۷؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
 جرمنی میں سال کا گرم ترین دن 
 اس دوران منگل کو جرمنی میں سال کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا۔  بدھ کو مقامی محکمہ موسمیات نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق منگل کو شام ۴؍ بجے مغربی شہر ڈوئسبرگ میں درجہ حرارت۳۹ء۳؍ ڈگری  سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا۔ پرتگال میں شدید گرمی کی لہر سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ پیر کو فرانس کے۶۴؍ مختلف مقامات پر گرمی کے سارے ریکارڈ ٹو ٹ گئے ۔ اگرچہ فرانس میں درجۂ حرارت  ابھی تک اپنی زیادہ سے زیادہ حد تک نہیں پہنچا ہے لیکن ملک کے جنوب مغربی حصے میں لگ بھگ۳۰؍ سال  کے دوران  جنگل میں آگ لگنے کے سب سے بڑے واقعات سامنے آئے ہیں۔۱۲؍جولائی کے بعد سے گیروندے کے علاقے کے۱۹؍ ہزار ۳؍ سو  ہیکٹر (۴۷؍ ہزار ۷؍سو ایکڑ) سے زیادہ کو اپنی  زدمیں لے لیا ہے جس سے تقریباً ۳۴؍ ہزار افراد اپنے گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق بلجیم  کے شہر ڈی ہان میں بھی ریت کے ٹیلوں میں آگ بھڑک اٹھی ہے جس کی  زد آکر میں کئی گاڑیاں بھی جل گئیں۔  شدیدگرمی کے درمیان اب یہاں موسلا دھار بارش کا بھی امکان ہے۔ آنے والے وقت میں یہاں کے کچھ حصوں میں۳۰۔۲۰؍ ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے۔[محکمہ موسمیات کے حکام نے کہاکہ نیدرلینڈز میں ماسٹرچٹ میں منگل کو۳۹ء۵؍ ڈگری  سینٹی گریڈ کے ساتھ اب تک کی سب سے زیادہ گرمی ریکارڈ کی گئی۔حالیہ دنوں میں یورپ کے کئی ممالک کے جنگلات میں بھیانک آگ لگی ہے۔ 
ڈبلیو ایم او کا انتباہ 
 اقوام متحدہ کی ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے وقت میں صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

europe Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK