جی ۷؍ اجلاس میں امریکی صدر سے ملاقات پر یورپی لیڈران آبنائے ہرمز سے متعلق تجویزپیش کریں گے۔
یورپی کمیشن کی امور خارجہ کی سربراہ کاجا کالاس- تصویر:آئی این این
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کے پائیدار نہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی کے پیش نظر یورپی لیڈران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کے متبادل راستے تلاش کر یں۔برطانوی اخبار ’دی ٹیلیگراف‘ نے لکھاہے کہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے سے متعلق مذاکرات، جو عالمی توانائی کی ترسیل کی ایک اہم شاہراہ ہے، اس ہفتے فرانس کے شہر ایویان لیہ بان میں ہونے والی جی ۷؍سربراہی کانفرنس کے اہم ایجنڈوں میں شامل ہیں۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی، جب امریکہ اور ایران نے ایک ابتدائی معاہدے کا اعلان کیا جس کا مقصد کئی ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا بتایا گیا ہے۔یورپی لیڈران نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، جس سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کم ہوئے ہیں۔
امکان ہے کہ برطانیہ اور فرانس اس سربراہی اجلاس کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو یورپی اتحاد کا ایک منصوبہ پیش کریں جو آبنائے ہرمز پر سے دباؤ کم کرنے کیلئے تیارکیا گیا ہے۔ساتھ ہی وہ واشنگٹن کو ایک طویل المدتی بین الاقوامی کوشش میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے جس کا مقصد اس سمندری راستے پر انحصار کم کرنا ہے۔ایک مغربی عہدیدار کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش نے توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث یورپی معیشتوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ اس ساختی مسئلے سے نمٹنے کیلئے کیا اقدامات کرے گا تاکہ مستقبل میں ایسے بحران دوبارہ پیدا نہ ہوں۔آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی برآمدات کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا راستہ ہے۔ جب ایران نے ابتدائی امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اس راستے کو بند کیا تو سیکڑوں تیل بردار جہاز پھنس گئے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی میں شدید خلل پیدا ہوا۔اگرچہ صدر ٹرمپ نے اتوار کو جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری پابندی ختم ہوگی تاہم پیر کو امریکی فوج کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی جمعہ تک برقرار رہے گی، جس سے معاہدے کے عملی نفاذ کے بارے میں سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
سپلائی راستوں کی تنوع کاری
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے کہا ہے کہ یورپی یونین توانائی کی فراہمی کے راستوں کو متنوع بنانے اور متبادل برآمدی راہداریوں کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز جیسے گلے کے پھندے پر انحصار کم کیا جا سکے۔ابھی تک یورپی تجاویز کی مکمل تفصیلات واضح نہیں ہیں، تاہم توانائی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق ایک طویل المدتی بین الاقوامی ڈیٹرنس مشن کے قیام کی تجویز زیر غور ہے جس کا مقصد ایران کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سے روکنا ہے۔ساتھ ہی یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ سے یورپ کو تیل اور گیس کی برآمدات بڑھانے اور شمالی افریقہ سے توانائی کی درآمدات میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
معاہدے کے اعلان کے بعد کئی یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں فوجی سطح پر بھی حصہ لینے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ یاد رہے کہ یور پی ممالک یوکرین جنگ کے سبب پہلے ہی ایندھن کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔