Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہمسایہ: رشتوں سے بڑھ کر ایک رشتہ جو محبّت، اعتماد اور باہمی اعتماد سے مضبوط ہوتا ہے

Updated: June 17, 2026, 2:48 PM IST | Nayla Rehan | Mumbai

زندگی کے سفر میں انسان بے شمار رشتوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ کچھ رشتے خون کے ہوتے ہیں، کچھ تعلقات محبت اور خلوص سے جنم لیتے ہیں۔

Include Your Neighbors In Your Happiness, It Will Double Your Happiness. Photo: INN
پڑوسیوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کریں، اس سے خوشی دوگنی ہوگی-تصویر:آئی این این
زندگی کے سفر میں انسان بے شمار رشتوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ کچھ رشتے خون کے ہوتے ہیں، کچھ تعلقات محبت اور خلوص سے جنم لیتے ہیں، لیکن ایک رشتہ ایسا بھی ہے جو بغیر کسی خونی تعلق کے ہمارے دکھ سکھ کا ساتھی بن جاتا ہے، اور وہ ہے ’’ہمسائے‘‘ کا رشتہ۔ ہمسایہ دراصل ہمارے گھر کی دیوار سے جڑا ہوا وہ انسان ہے جس کی موجودگی ہماری روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہوتی ہے۔ بسا اوقات وہ رشتہ داروں سے بھی زیادہ قریب اور کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ زندگی کے معمولات میں ایسے بے شمار مواقع آتے ہیں جب سب سے پہلے ہمسایہ ہی مدد کیلئے آگے بڑھتا ہے۔ خوشی کے لمحات ہوں یا آزمائش کی گھڑیاں، ایک اچھا ہمسایہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت بن جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک وقت تھا جب محلے اور پڑوس محض رہائش کی جگہ نہیں بلکہ ایک خاندان کی مانند ہوتے تھے۔ ایک گھر میں خوشی ہوتی تو پورا محلہ شریک ہوتا، کسی کے ہاں مصیبت آتی تو سب اس کے غم میں برابر کے شریک نظر آتے۔ بزرگوں کی عزت، بچوں سے شفقت اور ایک دوسرے کے لئے خیرخواہی عام تھی۔ انہی خوبصورت روایات نے معاشرے کو محبت اور اخوت کا گہوارہ بنایا تھا۔
مگر آج ترقی، مصروفیات اور خود غرضی کی دوڑ نے انسان کو اپنے ہی خول میں بند کر دیا ہے۔ ہم اپنے گھروں کو تو خوبصورت بنانے میں مصروف ہیں لیکن اپنے رویوں کی خوبصورتی سے غافل ہوتے جا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ پڑوسیوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں اور محبت و اعتماد کی وہ فضا کمزور پڑتی جا رہی ہے جو کبھی ہماری شناخت تھی۔
ایک مثالی ہمسایہ وہ ہے جو دوسروں کی آسانی کا سبب بنے۔ جو اپنے پڑوسی کے آرام کا خیال رکھے، اس کی عزت و احترام کو مجروح نہ کرے اور اس کی پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھے۔ چھوٹی چھوٹی نیکیاں، جیسے مسکرا کر سلام کرنا، خیریت دریافت کرنا، ضرورت کے وقت تعاون کرنا اور خوشی کے مواقع پر مبارکباد دینا، دلوں کو قریب لانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
اسلام نے حسنِ ہمسائیگی کو ایمان کی تکمیل سے جوڑا ہے۔ اس تعلیم کا مقصد صرف چند اخلاقی اصول سکھانا نہیں بلکہ ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں محبت، اعتماد اور باہمی احترام فروغ پائے۔ اگر ہر فرد اپنے پڑوسی کے حقوق کا خیال رکھنا شروع کر دے تو کئی سماجی برائیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔
 
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوبارہ اپنے معاشرتی رویوں کا جائزہ لیں۔ اپنے پڑوسیوں کو اجنبی سمجھنے کے بجائے انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ ان کیساتھ خیرخواہی، محبت اور احترام کا برتاؤ کریں کیونکہ مضبوط معاشرہ کی بنیاد مضبوط خاندانوں پر اور مضبوط خاندانوں کی بنیاد اچھے ہمسایوں پر قائم ہوتی ہے۔یقیناً ایک اچھا ہمسایہ صرف دیوار کے اُس پار رہنے والا شخص نہیں بلکہ زندگی کے سفر کا ایسا ساتھی ہے جو وقت ِ ضرورت ہمارے سب سے قریب کھڑا نظر آتا ہے۔ یہی حسنِ ہمسائیگی ہے اور یہی ایک مہذب اور باوقار معاشرہ کی پہچان بھی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK