Inquilab Logo Happiest Places to Work

بزرگ رحمت، رہنمائی اور استحکام کا ذریعہ ہوتے ہیں

Updated: June 17, 2026, 2:42 PM IST | Sara Faisal Binte Amir Faisal | Mumbai

گھر کے بزرگ اللہ تعالیٰ کی نعمت، تجربات کا خزانہ اور خاندان کی شناخت ہوتے ہیں، لیکن افسوس کہ آج معاشرے میں انہیں بوجھ سمجھنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

Encourage Children To Spend Some Time With Elders And Listen To What They Say.PhotoI:INN
بچوں کو تلقین کریں کہ وہ بزرگوں کے ساتھ کچھ وقت گزاریں اور ان کی باتیں سنیں-تصویر:آئی این این
گھر کے بزرگ اللہ تعالیٰ کی نعمت، تجربات کا خزانہ اور خاندان کی شناخت ہوتے ہیں، لیکن افسوس کہ آج معاشرے میں انہیں بوجھ سمجھنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ اس رجحان کے چند اہم اسباب درج ذیل ہیں:
مادہ پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان:
آج انسان کی قدر کا معیار اس کی کمائی اور معاشی افادیت بن گیا ہے۔ چونکہ بزرگ عموماً عملی معاشی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے پاتے، اس لئے بعض لوگ انہیں غیر ضروری سمجھنے لگتے ہیں۔
مصروف طرزِ زندگی:
ملازمت اور جدید طرزِ زندگی نے اولاد کو اتنا مصروف کر دیا ہے کہ بزرگوں کے ساتھ وقت گزارنا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ نتیجتاً بزرگوں کی موجودگی بعض افراد کو اضافی ذمہ داری محسوس ہونے لگتی ہے۔
دینی تعلیمات سے دوری:
اسلام نے والدین اور بزرگوں کے احترام کو عبادت قرار دیا ہے۔ جب دینی شعور کمزور ہوتا ہے تو بزرگوں کی خدمت اور عزت کا جذبہ بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔
خاندانی نظام کی کمزوری:
مشترکہ خاندانی نظام کے ٹوٹنے اور چھوٹے خاندانوں کے فروغ نے بزرگوں کی حیثیت کو متاثر کیا ہے۔ جب خاندان کے افراد الگ الگ رہنے لگتے ہیں تو بزرگ تنہائی اور بے توجہی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
نسلوں کے درمیان فکری فاصلے:
نئی اور پرانی نسل کے خیالات، ترجیحات اور طرزِ زندگی میں فرق ہوتا ہے۔ اگر اس فرق کو حکمت اور برداشت سے نہ سنبھالا جائے تو تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔
خود غرضی اور شخصی آزادی کا غلط تصور:
بعض لوگ اپنی سہولت، آزادی اور آرام کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں۔ ایسے افراد بزرگوں کی خدمت کو محبت اور سعادت کے بجائے بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور جدید ثقافت کے اثرات:
آج کی ثقافت جوانی، طاقت اور ظاہری کامیابی کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے، جبکہ بڑھاپے کو کمزوری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ سوچ بھی بزرگوں کی قدر میں کمی کا سبب بنتی ہے۔
اس رجحان کا حل
 گھروں میں بزرگوں کے احترام اور خدمت کی دینی تعلیمات کو فروغ دیا جائے۔
 بچوں کو عملی طور پر بزرگوں کی عزت کرنا سکھایا جائے۔ بزرگوں کے پاس بیٹھنے کی تلقین کریں۔
 بزرگوں کو فیصلوں اور خاندانی معاملات میں شامل رکھا جائے۔
 ان کے تجربات سے استفادہ کیا جائے اور انہیں اپنی اہمیت کا احساس دلایا جائے۔
 معاشرے میں بزرگوں کے مقام و مرتبے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے۔
 جدید زمانہ ہے اس لئے بزرگوں کو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کے جوان کل کے بزرگ ہیں۔ جو معاشرہ اپنے بزرگوں کی قدر نہیں کرتا وہ اپنی روایات، تجربات اور برکتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ بزرگ بوجھ نہیں بلکہ خاندان کے لئے رحمت، رہنمائی اور استحکام کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ان کی خدمت اور عزت نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ دینی فریضہ بھی ہے۔n
(مضمون نگار تدریسی شعبہ سے وابستہ ہیں ، ساتھ ہی انہیں ادب اور شاعری سے شغف ہے)

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK