یورپی یونین میں پناہ کی درخواستیں ۲۰۲۱ء کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں،یورپی ممالک کو جنوری تا جون ۳۳۲۰۰۰؍درخواستیں موصول ہوئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں۱۷؍ فیصد کم ہیں۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 2:58 PM IST | Paris
یورپی یونین میں پناہ کی درخواستیں ۲۰۲۱ء کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں،یورپی ممالک کو جنوری تا جون ۳۳۲۰۰۰؍درخواستیں موصول ہوئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں۱۷؍ فیصد کم ہیں۔
یورپی یونین ایجنسی برائے پناہ نے جمعرات کو کہا کہ یورپی یونین پلس ممالک میں جمع کرائی گئی پناہ کی درخواستوں کی تعداد ۲۰۲۱ءکے بعد پہلی ششماہی کی سب سے کم سطح پر آ گئی ہے۔یورپی یونین پلس ممالک کو ۲۰۲۶ءکے پہلے چھ مہینوں میں بین الاقوامی تحفظ کے لیے تقریباً ۳۳۲۰۰۰؍درخواستیں موصول ہوئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں۱۷؍ فیصد کمی ہے۔ واضح رہے کہ یورپی یونین پلس میں یورپی یونین کے۲۷؍ رکن ممالک کے ساتھ ناروے اور سوئٹزرلینڈ بھی شامل ہیں۔ ایجنسی نے کہا کہ یہ کمی، جو ۲۰۲۴ءکے اواخر سے جاری ہے، شام کی نازک لیکن جاری سیاسی منتقلی کے دوران پناہ مانگنے والوں کی قومیتوں میں تبدیلی اور یورپی یونین کے اصل و عبوری ممالک کے ساتھ تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش میں خسرہ کی شدید وبا، ایک ہزار سے زائد افراد کی موت
مزید برآں مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے بڑھنے کے نتیجے میں یورپی یونین پلس میں پناہ کی درخواستوں میں اضافہ نہیں ہوا۔افغان شہریوں نے سب سے زیادہ ۳۹۰۰۰؍درخواستیں جمع کرائیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں۷؍ فیصد کم ہیں۔ وینزویلا کے شہریوں کی درخواستیں تقریباً ایک تہائی کم ہو کر ۳۳۰۰۰؍رہ گئیں، جن میں سے۹۳؍ فیصد ہسپانیہ میں جمع کرائی گئیں۔جبکہ بنگلہ دیشی شہریوں کی درخواستیں۱۳؍ فیصد بڑھ کر۲۰۰۰۰؍ ہو گئیں۔ جبکہ فرانس کو سب سے زیادہ ۶۹۰۰۰؍درخواستیں موصول ہوئیں، جو یورپی یونین پلس کی مجموعی تعداد کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں۔ اس کے بعد اطالیہ کو ۶۶۰۰۰؍اور ہسپانیہ اور جرمنی میں سے ہر ایک کو ۵۵۰۰۰؍درخواستیں موصول ہوئیں۔ان چاروں ممالک کو مل کر تمام درخواستوں کا تقریباً تین چوتھائی حصہ موصول ہوا۔یونان میں آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ درخواستیں ریکارڈ ہوئیں، جہاں ۲۳۰۰۰؍درخواستیں موصول ہوئیں، یعنی تقریباً ہر۴۰۰؍ رہائشیوں کے لیے ایک۔
یہ بھی پڑھئے: یمن: فوجی کشیدگی کے نتیجے میں ایک ہی دن میں ۱۴۰۰؍ خاندان بے گھر
علاوہ ازیں یورپی یونین پلس میں شناخت کی شرح۳۱؍ فیصد رہی، یعنی ابتدائی فیصلوں میں ایک تہائی سے کم درخواست دہندگان کو بین الاقوامی تحفظ دیا گیا۔ جبکہ تقریباً۵۶؍ فیصد درخواستیں ایسے ممالک سے آئیں جو یورپی یونین کے نئے پناہ قوانین کے تحت سرحدی یا تیز رفتار طریقہ کار سے مشروط ہو سکتی ہیں، کیونکہ ان کی شناخت کی شرح کم ہے یا انہیں محفوظ ممالکِ اصل قرار دیا گیا ہے۔