گجرات اسمبلی کے سہ روزہ مانسون اجلاس کے بدھ کو آغاز کے موقع پر کانگریس کے رکن اسمبلی عمران کھیڑا والا نے وندے ماترم کی نئی شامل کی گئی سطروں کے دوران کھڑے ہونے سے انکار کر دیا۔ ۱۸۲؍رکنی گجرات اسمبلی میں کھیڑا والا واحد مسلم رکن اسمبلی ہیں۔
کانگریس لیڈر عمران کھیڑا والا۔ تصویر: آئی این این
گجرات اسمبلی کے سہ روزہ مانسون اجلاس کے بدھ کو آغاز کے موقع پر کانگریس کے رکن اسمبلی عمران کھیڑا والا نے وندے ماترم کی نئی شامل کی گئی سطروں کے دوران کھڑے ہونے سے انکار کر دیا۔ ۱۸۲؍رکنی گجرات اسمبلی میں کھیڑا والا واحد مسلم رکن اسمبلی ہیں۔ جمال پور کھاڈیا حلقہ کی نمائندگی کرنے والےکھیڑا والہ نے کہا کہ وہ قومی نغمے کا احترام کرتےہیں، تاہم اس میں شامل کیے گئے اضافی حصے سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے ’دکن ہیرالڈ‘ سےگفتگو کرتے ہوئے کہا ’’مجھے قومی نغمے اور اس حصے کا بے حد احترام ہے جسے ہمارے عظیم رہنماؤں مہاتما گاندھی، سردار ولبھ بھائی پٹیل، رابندر ناتھ ٹیگور اور بی آر امبیڈکر نے گایا تھا۔‘‘ انہوں نےکہا’’اگر انہوں نے کبھی اس پیراگراف پراعتراض نہیں کیا تو بی جے پی مجھے کچھ بتانے والی کون ہوتی ہے؟‘‘ کھیڑا والانے کہا کہ وہ وندے ماترم کے روایتی حصے کے دوران کھڑے رہے،لیکن جب اضافی سطریں گائی گئیں تو اپنی نشست پرواپس بیٹھ گئے۔ ان کا کہنا تھا ’’بی جے پی گاندھی یا پٹیل سے بڑی نہیں ہے۔ہمارے لیڈروں جن میں ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی شامل ہیں،نے اپنا موقف واضح کر دیاہے۔ یہ میرا ذاتی مؤقف بھی ہے کہ میں اضافی پیراگراف نہیں گاؤں گا۔‘‘
گجرات کے وزیر مملکت برائے جنگلات، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی پروین مالی نے کھیڑا والا اور کانگریس کو اسمبلی کی دیرینہ روایت کی مبینہ توہین پرتنقید کا نشانہ بنایا۔پروین مالی نے کہا ’’کئی برسوںسےاسمبلی میں روایت رہی ہے کہ اس کے اجلاس کاآغاز وندے ماترم سے ہوتا ہے۔کانگریس کے رکن اسمبلی عمران کھیڑا والا کھڑےہوئے، لیکن فوراً بیٹھ گئے، جو قومی نغمے کی توہین ہے۔‘‘ بی جے پی نے بھی کھیڑا والا پر وندےماترم کی توہین کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اضافی حصہ مطلوبہ طریق کار کے تحت پارلیمنٹ سے منظور کیا گیا ہے۔