معروف ڈائری نویس اینی فرینک کی سوتیلی بہن ایوا شلوس جو ہولوکاسٹ کے دوران نازی جرمنی کے بدنام ِ زمانہ حراستی مرکز آشوٹز سے زندہ بچ کر واپس آنے والے خوش قسمت افراد میں شامل تھیں، کا ۹۶؍ سال کی عمر میں لندن میں انتقال ہوگیا۔
ایوا شلوس۔ تصویر: آئی این این
معروف ڈائری نویس اینی فرینک کی سوتیلی بہن ایوا شلوس جو ہولوکاسٹ کے دوران نازی جرمنی کے بدنام ِ زمانہ حراستی مرکز آشوٹز سے زندہ بچ کر واپس آنے والے خوش قسمت افراد میں شامل تھیں، کا ۹۶؍ سال کی عمر میں لندن میں انتقال ہوگیا۔ ایوا شلوس نے ہولو کاسٹ کے بارے میں بیداری کیلئےدہائیوں تک کام کیا۔ ان کی موت کی اطلاع برطانیہ میں اینی فرینک کے ادارے ’’اینی فرینک ٹرسٹ‘ ‘نے دی۔
برطانیہ کے کنگ چارلس سوم نے ان کے انتقال پر افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کیلئے یہ ’’باعث فخر وعزاز‘‘ ہے کہ وہ اشلوس کو جانتے تھےجنہوں نے نوجوانوں کو تعصب کے خلاف کھڑا ہونے میں مدد دینے کیلئے ٹرسٹ کی بنیاد رکھی۔ کنگ چارلس نے کہاکہ’’ اپنی نوجوانی میں انہوں نے جن ہولناکیوں کا سامنا کیا اس کا تصور بھی محال ہے، اس کے باوجود انہوں نے اپنی باقی زندگی نفرت اور تعصب پر قابو پانے اور این فرینک ٹرسٹ اور دنیا بھر میں ہولوکاسٹ سے متعلق تعلیم کے توسط مہربانی، حوصلہ، سمجھ بوجھ اور ثابت قدمی کے جذبے کو فروغ دیا۔‘‘آشوٹز نازی جرمنی کا قائم کردہ ایک بدنام زمانہ حراستی اور موت کا کیمپ تھا، جو دوسری عالمی جنگ کے دوران پولینڈ میں واقع تھا۔ یہ ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں اور دیگر اقلیتوں کے قتل عام کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا ہے۔