؍۱۸؍دن بعد بھی دیونارمذبح میں ذبیحہ کےتئیں غیر یقینی حالات

Updated: September 26, 2022, 10:39 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

دیونارسلاٹرہاؤس کےڈاکٹروں کی ۸؍رکنی ٹیم اوروارڈ سطح پر ڈاکٹروں کی ٹیم کےتوسط سے ممبئی میں اب تک ۳؍ ہزار جانوروں کو’لمپی‘ وائرس سے حفاظت کا ٹیکہ لگایا گیاہے۔بیمار جانوروں کوقرنطینہ کیاجارہا ہے۔تاجروں نے سخت ناراضگی کااظہار کیا ۔کہا: مذبح کوبند رکھنا مسئلے کاحل نہیںہے بلکہ طبی معائنے کے بعد صحت مند بھینسوں اورپاڑوں کوذبح کرنے کی اجازت دی جائے

Doctors in M ​​East Ward vaccinating animals against Lumpy Virus .Picture:INN
ایم ایسٹ وارڈ میںڈاکٹرجانوروں کو لمپی وائرس سے حفاظت کا ٹیکہ لگاتے ہوئے۔ تصویر:آئی این این

’لمپی ‘وائرس کے سبب ۱۸؍دن سے بند دیونار مذبح میں بھینسوں اور پاڑوں کا ذبیحہ دوبارہ شروع کرنے کے تئیںاب بھی غیریقینی حالات ہیں۔حالانکہ سلاٹرہاؤس کے دوسرے حصے میں حسب معمو ل ذبیحہ جاری ہے۔ دیو نار مذبح میںروزانہ ۲۵۰؍ بھینس اور پاڑے ذبح کئے جاتے تھے اورگوشت شہرو مضافات میں سپلائی کیا جاتا تھا لیکن ۱۸؍دن سے یہ سلسلہ پوری طرح سے بند ہے۔ قطع نظر اس سے کہ شہریوں کوکسی نہ کسی طرح گوشت مل رہا ہے لیکن یہ  مہنگا ہوگیا ہے ۔دیونار سلاٹر ہاؤس میں بھینسوں اور پاڑوں کاذبیحہ بند کئےجانے سے تاجر پریشان ہیں۔ اس پیشے سے وابستہ بڑی تعداد میںقریش برادری کے لوگ اس بات کے منتظر ہیںکہ حکومت کی جانب سے سلاٹر ہاؤس دوبارہ شروع کرنے کا کب اعلان کیا جاتا ہے۔
’’وزیراعلیٰ سے جلدملاقات کی جائے گی‘‘
 آل انڈیا جمعیۃ القریش ممبئی یونٹ کے صدر حاجی بشیر احمدقریشی نے کہاکہ ’’ بیماری سے بچاؤاوراحتیاط ضروری ہے لیکن سلاٹر ہاؤس بند رکھنا مسئلے کا قطعی حل نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس تعلق سے انتظام کرے ۔‘‘  انہوں نےیہ بھی کہاکہ ’’ بیماری سے قبل بھی ہمیشہ یہ معمول رہتا ہے کہ دیونارمیں جانور ذبح کرنے سے قبل ڈاکٹر باقاعدہ جانوروںکو چیک کرتے ہیں،اس کےبعد اجازت دی جاتی ہے ۔یہ طریقہ اِس وقت بھی اپنایاجانا چاہئے کیونکہ تمام بھینس اورپاڑے تو بیمار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے سے ملاقات کیلئے وقت لیا جارہا ہے،جلد ہی ان سے ملاقات کی جائے گی اورتاجروں کی پریشانی سے ان کوآگاہ کروایا جائے گا۔‘ ‘ سبر بن بیف ڈیلرس اسوسی ایشن کے نائب صدر حاجی انتظار قریشی نے کہاکہ’’ بیماری کے سبب ہم لوگ بھی خاموش ہیں ۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ حکومت کو کوئی ایسا انتظام بہرحال کرنا چاہئے کہ صحت مند جانوروں کا ذبیحہ ممکن ہوسکے کیونکہ اگربالفرض یہ بیماری مزیدبڑھی توکیا مستقل طور پربھینس اورپاڑوں کا ذبیحہ اسی طرح سے بند رہے گا۔‘‘ چمڑ ے کے بڑے تاجر حاجی عبدالعزیز قریشی نے کہا کہ ’’ ہم تو روزِاوّل سےیہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت ڈاکٹروں کے ذریعے صحتمند جانوروں کا معائنہ کروا کر ان کاذبیحہ شروع کروائے  اورجانوروں کو لانے کے لئے بھی محتاط انداز اپنایا جائے کیونکہ سلاٹرنگ بند کرنا ہرگز مسئلے کاحل نہیں ہے بلکہ یہ اس کاروبار سے جڑے لوگوں کے لئے مسائل کا سبب ہے۔‘‘   دیونارمذبح کے جنر ل منیجر ڈاکٹرکلیم پٹھان کے مطابق ’’مذبح میںتعینات ۸؍ڈاکٹرس کی ٹیم وارڈ کی سطح پر میڈیکل عملہ کےساتھ جانوروں کو ٹیکہ لگانے میں مصروف ہے اور اب تک ممبئی میں۳؍ہزارجانورو ںکوٹیکہ لگایاگیا ہے۔ اچھی بات یہ ہےکہ بیماری کنٹرول میںہے لیکن حکومت کے حکم کے بغیر مذبح میںدوبارہ سلاٹرنگ شروع نہیں ہوگی۔‘‘جنرل منیجر نے یہ بھی کہا کہ ’’ ٹیکہ لگانے کے ساتھ بیمار جانوروں کو قرنطینہ کیا جارہا ہے اور جانور پالنے والوں کو بھی احتیاطی تدابیر اپنانے کے تعلق سے ہدایات دی گئی ہیں ۔ جہاں تک  ذبیحہ شروع کرنے  سے متعلق سوال ہے تو جب تک حکومت کی جانب سے آرڈر نہیں دیا جاتا ، اس وقت تک کوئی بات حتمی انداز میں نہیں کہی جاسکتی  ۔‘‘

deonar mumbai Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK