ترک فوج کو معمولی خراش بھی آئی تو شامی فوج کوہرجگہ نشانہ بنائیں گے

Updated: February 14, 2020, 2:28 PM IST | Agency | Ankara

ترکی کےصدر رجب طیب اردگان نےانتباہ دیا ہے کہ اگر ان کے فوجیوں کو معمولی خراشیں بھی آئیں تو شامی فورسز کو’ہر جگہ‘ اور’ہر طریقے‘ سےنشانہ بنائیں گے۔

ترک فوج کو معمولی خراش بھی آئی تو شامی فوج کوہرجگہ نشانہ بنائیں گے
رجب طیب اردگان ۔ تصویر : آئی این این

 انقرہ : ترکی کےصدر رجب طیب اردگان نےانتباہ دیا ہے کہ اگر ان کے فوجیوں کو معمولی خراشیں بھی آئیں تو شامی فورسز کو’ہر جگہ‘ اور’ہر طریقے‘ سےنشانہ بنائیں گے۔انقرہ میں پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران ترک صدر نے دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا۔خبروں کے مطابق ترک صدر نے کہا کہ ’’اگر ہماری نگراں پوسٹوں یا دیگر مقامات پر تعینات فوجیوں کو معمولی سی چوٹ بھی لگی تو میں یہاں سے اعلان کر رہا ہوں کہ ہم ادلب کی سرحدوں یا امن معاہدےکی پرواہ کیے بغیر ہر جگہ شامی حکومت کی افواج کو نشانہ بنائیں گے۔‘‘رجب طیب اردگان نےمزید کہا کہ ’’ہم اس کام کے لیے کوئی بھی راستہ اپنائیں گے، زمینی یا فضائی حملے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوں گے۔‘‘انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ’’شام کی حکومت شہریوں پر مسلسل حملے، قتل عام اور خون بہا رہی ہے۔‘‘ترک صدر نے الزام لگایا کہ دانستہ حملے کرکےشہریوں کو ترک سرحد کی طرف دھکیلنامقصد ہے تاکہ ان کی آڑ میں سرحدی علاقے پر قبضہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ادلب میں کارروائیوں میں شامل طیارے’’اب آزادانہ حرکت نہیں کریں گے۔‘‘
 دوسری جانب روسی حکام نےبتایا کہ روس کے صدر ولادیمیرپوتن اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب ادگان کےمابین فون پر شام میں کشیدگی کے خاتمے پر تبادلہ خیال ہوا۔حکام کے مطابق ماسکو اور انقرہ نے امن معاہدوں پر مکمل عمل درآمد پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے لیڈران نے’’شام میں جاری بحران کےحل کے مختلف پہلوؤں کاجائزہ لیا، ادلب میں کشیدگی کو کم کرنے کے مسئلے پر تفصیلی بات کی۔‘‘
 واضح رہے چند روزقبل ترکی نےخبردار کیا تھاکہ اگر شام کےشمال مغرب سےمتعلق `محفوظ زون کے امن معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو انقرہ پلان بی (ایکشن) پر عملدرآمد شروع کردے گا۔ترکی کے وزیر دفاع ہولوسی آکار نے کہا کہ ’’اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی رہی تو ہمارے پاس پلان بی اور پلان سی ہے۔‘‘
 واضح رہے کہ روس کےساتھ۲۰۱۸ء کے معاہدے کی رو سے ترکی نے ادلب میں ۱۲؍ پوسٹیں قائم کی تھیں۔ اس ضمن میں ترکی کے سیکوریٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ رواں ہفتےان میں سے۳؍پوسٹوں کو شام کے صدر بشارالاسد کی سرکاری فورسز نے گھیرے میں لے لیا تھا۔
 واضح رہے کہ ترکی اور روس کے مابین شامی کرد فورسیز (پی وائی جی) کو ترک سرحد سے ۳۰؍ کلو میٹر دور رکھنے کا معاہدہ طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی فورسز’سیف زون‘میں مشترکہ پیٹرولنگ کریں گی۔اس پر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نےمعاہدے سے متعلق کہا تھا کہ اس سے خطے میں خونریزی کا اختتام ہوگا۔

turkey syria Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK