ٹرمپ نے اُس مسودہ قانون پر دستخط کردیئے جو انہیں روسی تیل خریدنےوالے ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف کا اختیار دیتاہے، آئندہ ۳۰؍ دنوں میں فیصلہ، ہندوستانی درآمد کنندگان کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا، حکومت خاموش تماشائی۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 12:19 PM IST | Agency | New Delhi/Washington
ٹرمپ نے اُس مسودہ قانون پر دستخط کردیئے جو انہیں روسی تیل خریدنےوالے ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف کا اختیار دیتاہے، آئندہ ۳۰؍ دنوں میں فیصلہ، ہندوستانی درآمد کنندگان کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا، حکومت خاموش تماشائی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس اور ایران کے خلاف پابندیوں سے متعلق ’لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا(روس) اینڈ ایران ایکٹ۲۶ء‘ پر دستخط کرکے اسے قانون بنا دیا ہے۔ قانون کے تحت روسی تیل اور گیس خریدنے والے بڑے ممالک، جن میں ہندوستان اور چین شامل ہیں، کی درآمدات پر۱۰۰؍ فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار صدر کو دیا گیا ہے۔
قانون کے مطابق گزشتہ ۱۲؍ماہ کے دوران روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے ۵؍بڑے خریدار ممالک پر یہ محصول لگایا جاسکتا ہے۔ تاہم، قانون کسی مخصوص ملک کا نام لے کر فوری طور پر ٹیرف عائد نہیں کرتا اور اس کے نفاذ کا فیصلہ امریکی صدر کے اختیار میں ہوگا۔اس قانون کے تحت روسی توانائی کی تجارت، اس کے ’شیڈو فلیٹ‘ اور پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش ہے۔ مسودہ قانون پر دستخط کے ۳۰؍ دنوں میں صدر کو ٹیرف کے نفاذ کا اعلان ہے۔
یہ بھی پڑھئے:برطانیہ: ایک ملی سیکنڈ کی سافٹ ویئر خرابی کے باعث۲۰۰۰؍ سے زائد پروازیں منسوخ
نیا امریکی قانون ہندوستانی برآمدکنندگان کیلئے تشویش کا موضوع ہے۔ برآمد کنندگان کے مطابق اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اب تک مضبوط رہے تجارتی تعلقات کے تعلق سے غیر یقینی میں اضافہ ہوا ہے اور اگر ایسا محصول لگایا جاتا ہے تو اس سے امریکہ کو ہونے والی ہندوستان کی برآمدات بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔ ہندوستانی برآمدی تنظیموں کی فیڈریشن (فیو) کے صدر ایس سی رلہن نے کہا کہ ہم بہت فکرمند ہیں۔ اگر امریکہ بھاری ٹیرف عائد کرتا ہے تو اس سے امریکہ کو ہماری برآمدات مکمل طور پر رک جائیں گی۔ کوئی بھی درآمد کنندہ اتنا بھاری محصول برداشت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انجینئرنگ شعبہ کے کئی برآمد کنندگان کا امریکہ میں اہم کاروبار ہے ، کسی فیصلہ سے قبل امریکہ کو ان پہلوؤں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ممبئی کے برآمد کنندہ اور ٹیکنوکرافٹ انڈسٹریز کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر شرد صراف نے بھی اسی طرح کی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہم بہت فکرمند ہیں۔نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ دباؤ بنانے کی حکمت عملی کے طور پر اس کا استعمال کر سکتی ہے۔
۱۰۰؍ فیصد ٹیرف سے متعدد صنعتیں بری طرح متاثر ہوں گی
ٹریڈ پروموشن کونسل آف انڈیا (ٹی پی سی آئی) کے چیئرمین موہت سنگلا نے کہا کہ کچھ شعبوں پر اس کا سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات میں خلل پیدا ہوگا۔ معروف چمڑا اور جوتا برآمد کنندہ اور فریدہ گروپ کے چیئرمین رفیق احمد نے کہا کہ ان کی کمپنی کی کل برآمدات کا۶۵؍فیصد امریکہ کو جاتا ہے اور محصول میں کوئی بھی اضافہ ان برآمدی کھیپوں کو متاثر کرے گا۔ ’گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو‘ (جی ٹی آر آئی) نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے قانون کا استعمال نئی دہلی پر روسی تیل کی خرید کم کرنے اور ممکنہ طور پر۶؍ فروری کے مشترکہ بیان میں پیش کی گئی۱۸؍فیصد ٹیرف کی شرح بحال کرنے کے بدلے غیر مساوی دو طرفہ تجارتی معاہدہ قبول کرنے کے لیے دباؤ بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔