• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اورنگ آباداسلحہ ضبطی کیس میں فیصل کو ضمانت، ۲؍ دہائی بعد رہا ئی

Updated: February 25, 2026, 7:06 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ممبئی ٹرین بلاسٹ کیس سے بری ہوچکے ہیں جبکہ اسلحہ ضبطی کیس میں مجرم قرار دینے کوہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

Faisal Attaur Rehman Sheikh To Be Released After 20 Years.Photo:INN
فیصل عطاء الرحمٰن شیخ ۲۰؍ سال کے بعد رہا ہوںگے- تصویر:آئی این این
ممبئی(ندیم عصران):ممبئی ٹرین بلاسٹ کیس سے باعزت بری ہونے  کے باوجود بقیہ ملزمین کے ساتھ رہائی سے محروم رہ جانےوالے فیصل عطا الرحمٰن کو  بامبے ہائی کورٹ نے اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس میں  ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سنایاہے۔و ہ ۲۰؍ سال کے طویل قیدوبند کے بعد آزاد فضا میں سانس لیں گے۔ یاد رہے کہ ذیلی عدالت نے فیصل کو اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس میں  مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ہے جسے انہوں نے ہائی کورٹ میں  چیلنج کرتے ہوئے ضمانت کی درخواست داخل کی تھی۔ منگل کو ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سنایا۔ یہ  ذہن نشین رکھنے کے لائق ہے کہ ٹرین بلاسٹ کیس میں ذیلی عدالت نے تمام ملزمین کو مجرم قرار دیا تھا مگر بامبے ہائی کورٹ میں پولیس اور اے ٹی ایس کے دلائل نہیں ٹھہر سکے۔ 
فیصل اوران کے اہل خانہ کو امید ہے کہ اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس میں بھی ہائی کورٹ سے انہیں انصاف ملے گا اور مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنانے کا ذیلی عدالت کافیصلہ بدل جائےگا۔ بامبے ہائی کورٹ کی ۲؍ رکنی بنچ  میں ضمانت کی درخواست منظور ہونے کے بعد فیصل جلد ہی یروڈا جیل سے رہا ہو کر ۲۰؍ سال بعد اپنے بھائی ، بہنوں اور  دیگر رشتہ داروں  کےہمراہ رمضان المبارک کی سعادتوں ،  رحمتوں اور خوشیوں سے لطف اندوز ہوسکیں گے ۔ ممبئی  ٹرین بلاسٹ کیس میں فیصل کو پھانسی کی  اوران کے بھائی مزمل کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی  تاہم ہائی کورٹ میں  الزام غلط ثابت ہوا۔ البتہ ان کے  والد عطار الرحمن اور والدہ اپنے دونوں بچوں کیلئے انصاف کی جنگ لڑتے اور تفتیشی ایجنسیوں اور پولیس کی زیادتیوں ، تضحیک و توہین سہتے سہتے زندگی کی جنگ ہار گئے۔ 
 
 
 اشونی بیدرے قتل : عدم انصاف پر خودکشی کی اجازت  مانگی گئی
۲۰۱۶ء میں سرخیوں میں آئے اشونی بیدرے قتل کیس میں مقتولہ پولیس افسر کے اہل خانہ کو اب تک انصاف نہیں ملا ۔انہوں نے صدر جمہوریہ کو خط لکھ کر خود کشی کی اجازت مانگی  ہے۔  یاد رہے کہ سب انسپکٹر اشونی بیدرے کا ان کے سینئر افسر ابھے کروندکر نے قتل کر دیا تھا۔ الزام ہے کہ دونوں  میں معاشقہ تھا۔  اشوینی کے قتل کا علم اہل خانہ کو ان کے کئی دنوں تک لاپتہ رہنے اورڈیوٹی پر نہ پہنچنے کے بعد  پولیس کی تفتیش سے ہواتھا۔
 
 
اشونی کے اہل خانہ نے   الزام لگایا ہے کہ خاتون پولیس افسر کے قتل کے ۱۰؍ سال  بعد بھی انہیں انصاف نہیں ملا ۔ خاندان نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت سے یوتھنیشیا( رضاکارانہ موت) کی اجازت مانگی ہے۔ اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ عدالت میں قتل ثابت ہونے کے بعد بھی انتظامیہ سرکاری ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر رہا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ خاندان کو ان مراعات سے محروم رکھا گیا ہے جو انہیں سروس میں رہتے ہوئے حاصل تھیں۔اس معاملے میں مرکزی ملزم ابھے کروندکر کو سزا سنائی گئی ہے   تاہم یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سزا کے باوجود بیدرے گور خاندان کو انتظامی سطح پر ابھی تک انصاف نہیں ملا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ ایک قتل تھا، لیکن اس کے شوہر راجو گورہے نے الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ اب بھی موت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK