سمندرمیں ڈوب جانے والے افراد کی لاش کی شناخت میں اہل خانہ کودقتیں

Updated: May 26, 2021, 2:26 AM IST | nadeem asran | Mumbai

جے جے اسپتال کے مردہ گھر کے باہر تفصیلات حاصل کرنے اور لاشوںکی شناخت کیلئے اواین جی سی اور پولیس رشتے داروں کی مدد کرنے میں مصروف۔ بحریہ جلد ہی سرچ آپریشن ختم کردے گا

JJ, the widow of the slain Tripat Sarkar of Kolkata, is sighing outside the hospital. They were married 3 months ago.Picture:Inquilab
کولکاتہ کے مہلوک ترپ سرکار کی بیوہ جے جے اسپتال کے باہر آہ وزاری کررہی ہے۔ ان کی شادی ۴؍ مہینے قبل ہی ہوئی تھی تصویر انقلاب

  طوفان کے دوران سمندر میں ڈوب جانے والے افراد کے  اہل خانہ اور رشتہ دار لاشوں کی شناخت نہ ہونے سے سخت پریشان  اور مایوس ہیں ۔ اسپتال کے مردہ گھر کے باہر اہل خانہ کی تفصیلات حاصل کرنے اور لاشوں کی شناخت کے سلسلہ میں ان کے خون کا نمونہ لینے نیز دیگر شکایتوں کے ازالے کیلئے آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن ( او این جی سی ) اور یلو گیٹ پولیس کے افسران  مہلوکین کے اہل خانہ کی  مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ دریں اثناء اطلاع کے مطابق  تاؤتے طوفان میں لاپتہ ہونے والوں کی تلاش  کیلئے جاری سرچ آپریشن بحریہ کے ذریعے  جلد ہی ختم کر دیا جائے گا ۔ 
 تاؤتے طوفان کی زد میں آنے والے جہاز بارج پی ۳۰۵؍ اور ۲؍ ٹگ بوٹ میں سوار  افرادکی تلاش کرنے میں مصروف  بحریہ کے مطابق اب تک ۷۵؍ لاپتہ  افراد کو تلاش کر لیا گیا ہے ۔ جے جے اسپتال کے احاطے میں  مہلوکین کےاہل خانہ کی مدد کیلئے قائم ہیلپ ڈیسک  میں موجود پولیس افسر  اور اہلکاروں نے  انقلاب سے بات چیت کے دوران بتایا کہ اب تک ۷۱؍ لاشیں پوسٹ مارٹم کیلئے لائی گئی ہیں ،  ان میں سے ۵۰؍ لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ ۲۱؍ لاشیں  انتہائی مسخ شدہ ہونے کے سبب ان کی شناخت نہیں کی جاسکی ہے ۔  یلو گیٹ پولیس اسٹیشن اور جے جے اسپتال کے مردہ خانہ کے ذمہ دار ڈاکٹروں کی فراہم کردہ اطلاع کے مطابق جن لاشوں کی شناخت مشکل ہوگئی ہے،  اس کیلئے   اسپتال آنے والے اہل خانہ میں سے کسی ایک کے خون کا نمونہ لے کر ان کے ڈی این اے کی مدد سے لاش کی شناخت کی کوشش کی جارہی ہے ۔ دوسری جانب جے جے اسپتال کے مردہ گھر کے باہر گزشتہ ایک ہفتہ سے اپنے بیٹے  اور بھائی کی لاش حاصل کرنے کیلئے پریشان حال اہل خانہ اور رشتہ دار لاش نہ ملنے اور طوفان کی اطلاع ہونے کے باوجود جہاز  اور اس میں موجودعملے کو محفوظ مقامات پر نہ لے جانے سے سخت ناراض  ہیں ۔
  جےجے اسپتال میںگزشتہ ایک ہفتہ سے فاروق شیخ اپنے بھائی شبیر شیخ کی لاش حاصل کرنے اور اس کی لاش کی شناخت ہونے کے منتظر ہیں لیکن اب تک وہاں موجود  لاشوں میں ان کے بھائی کی شناخت نہیں ہوسکی ہے ۔ انہوں نے نامہ نگار سے بات چیت کے دوران نم آنکھوں سے بتایا کہ’’ لاش کی شناخت کے لئے خون کا نمونہ لیا گیا ہے لیکن اب تک میرے بھائی کی لاش کا پتہ نہیں چل سکا ہے ۔ میرے بھائی نے ۱۵؍ مئی کو ہمیں وہاٹس ایپ کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ طوفان آنے والا ہے اس لئے اب کچھ دنوں تک بات نہیں ہوسکے گی لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ وہ اس کا آخری پیغام ہوگا اور اب وہ ہم سے کبھی بات نہیں کرسکے گا ۔ ‘‘
  فاروق نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے بھائی کے علاوہ کئی لوگوں کی جان گئی ہے،اس کی ذمہ دار کمپنی ہے جس نے طوفان کی اطلاع ہونے کے باوجود ملازمین کو محفوظ مقامات پر نہیں پہنچایا۔ اس طوفان میں جب بڑے بڑے جہاز ٹھہر نہیں سکے تو میرے بھائی یا دیگرملازمین کی کیا حیثیت کہ تیرنا جاننے کے باوجود اس کا مقابلہ کر سکتے۔ اب آپ ہی بتائیں جو افراد اپنے اہل خانہ کے واحد کفیل تھے، اب ان کےبچوں کا کیا ہوگا ۔ ‘‘
 ڈی این اے کے ذریعے لاش کی شناخت کے لئے اپنے خون کا نمونہ دینے والے ۷۰؍ سالہ  رامائن چوہان اپنے بیٹے اومیش چوہان جو بطور ٹرنر بارج پی ۳۰۵؍  پر ملازم تھا ، کی لاش کی شناخت ہونے کے منتظر ہیں ،انہوں نے کہا ’’ میرا بیٹا ۲۵؍ مئی کو گھر آنےوالا تھا اور آج ۲۵؍ مئی کو میں اس کی شناخت ہونے اور لاش لے جانے کا منتظر ہوں ایک بوڑھے باپ کے لئے اس سے برا کیا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK