• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کینسرمیں مبتلا مشہور اداکار جونیئر محمود ۶۷؍سال کی عمر میں انتقال کر گئے

Updated: December 09, 2023, 9:38 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

اپنے دور کے مشہور چائلڈ آرٹسٹ رہے جونیئر محمود آخرکار زندگی کی جنگ ہار گئے ، آخری وقت میں جتیندر ،جانی لیور اور سچن پلگائونکر نے ان سے ملاقات کی تھی۔

Syed Naeem Masood alias Junior Mahmood. Photo: INN
سید نعیم مسعود عرف جونیئر محمود۔ تصویر : آئی این این

معروف اداکار اور اپنے دور کے مشہور چائلڈ آرٹسٹ جونیئرمحمود جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تقریباً ۲؍ بجکر۱۵؍ منٹ پرانتقال کرگئے اور جمعہ کو عصر کی نماز سے قبل انہیں سانتا کروز قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ان کے جلوس جنازہ میں اداکار رضا مراد، لکی علی، جاوید جعفری، سچن پلگائونکر، آدتیہ  پنچولی، علی اصغر، جانی لیور، ماسٹر راجو، تارک مہتا کردار نبھانے والے شیلیش لودھا ، راکیش بیدی اور کامیڈین سنیل پال سمیت فلمی دنیا کی متعدد شخصیات اورمداحوں نے شرکت کی۔ یاد رہے کہ جونیئر محمود کا اصل نام نعیم سید مسعود ہے۔ ان کےپسماندگان  میں اہلیہ لتا،۲؍بیٹے رفیق اور حسنین شامل ہیں۔
یاد رہے کہ پیٹ میں تکلیف کی وجہ سے طبی جانچ کروانے پر نومبر میں ہی ان کے کینسر میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی تھی لیکن بیماری کی تشخیص ہونے تک سرطان ان کے جسم کو کافی نقصان پہنچا چکا تھا۔ ان کے بیٹے رفیق نے انقلاب سے گفتگو کے دوران بتایا کہ ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ ان کے والد کا کینسر چوتھے اسٹیج پر پہنچ چکا تھا اور ان کا علاج مشکل نظر آرہا تھا جس کی وجہ سے انہیں گھر پر ہی علاج جاری رکھنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ مرحوم کے دیگر قریبی ذرائع نے بتایا کہ کینسر کی تشخیص ہونے پر ڈاکٹروں نے اندازاً بتایا تھا کہ اب ان کا زیادہ عرصہ تک حیات رہنا مشکل نظر آرہا ہے۔
نعیم سید نے اپنے آخری دنوں میں جیتندر، سچن پلگائونکر جیسے چند ساتھی اداکاروں اور دوستوں سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی جسے  ان اداکاروں نے پورا بھی کیا۔ ان سے آخری وقتوں میں ملاقات کرنے والوں میں جتیندر ، جانی لیور  اور سچن پلگائونکر کے نام اہم ہیں۔ البتہ ان کی تدفین میں فلمی دنیا کے جونیئر اداکاروں، مداحوں اور دوستوں کی تعداد زیادہ تھی۔ ان سبھی نے نم آنکھوں سے جونیئر محمود کو الوداع کیا۔ قبرستان کے منتظمین میں شامل نوشاد علی نے انقلاب کو بتایا کہ جونیئر محمود کے اہلِ خانہ نے جمعہ کی نماز کے بعد تدفین کی اطلاع دی تھی لیکن غالباً غسل میں تاخیر ہونے سے جنازہ تاخیر سے لایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’اس قبرستان میں محمد رفیع، مدھو بالا، دلیپ کمار، استاد غلام مصطفیٰ خان، پروین بابی اور جیا خان جیسی شخصیات کی تدفین ہوئی ہے اور جب کبھی کسی بڑی شخصیت کی تدفین ہونی ہوتی ہے تب مقامی پولیس سے ہمیں اطلاع دی جاتی ہے تاکہ سیکوریٹی کے پیش نظر قبرستان کے بھی رضاکاروں کواحتیاط کے طور پر انتظامات میں شامل رکھا جائے اور تمام امور بغیر کسی مسئلہ کے انجام پاسکیں۔‘‘ نوشاد علی کے مطابق جونیئر محمود کے تعلق سے بھی مقامی پولیس نے احتیاطی تدابیر برتنے کی ہدایت دی تھی اور اس حساب سے انتظامات بھی کئے گئے تھے۔ یاد رہے کہ جونیئر محمود نے اپنے دور کی کئی مشہور فلموں جیسے کارواں، دو راستے ،برہمچاری میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے جبکہ انہوں نے شمی کپور سے لے کر راجیش کھنہ  اور جتیندر تک کئی بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK