کسانوں کے احتجاج نے ریلوے کو مفلوج کردیا

Updated: September 27, 2020, 5:46 AM IST | Agency | Amritsar

امرتسر ، امبالہ ، لدھیانہ اورپنجاب کے دیگر علاقوں میں کسانوں کا نیم برہنہ ہوکر احتجاج ، ریلوے ٹریک پوری طرح سے جام ،ہریانہ میںمتعدد ہائی ویز اب بھی متاثر، اپوزیشن کے ہاتھوں میں کھیلنے کے الزامات پر کہا کہ ’’پورے ملک کا کسان مودی حکومت کیخلاف متحد ہو رہا ہے اور یہ کام کوئی اپوزیشن پارٹی نہیں کرسکتی ‘‘

Farmer Protest - Pic : PTI
کسانوں کا زرعی بل کیخلاف احتجاج ۔ تصویر : پی ٹی آئی

 پارلیمنٹ کے ذریعہ حال ہی میں منظور کئے گئے تین زرعی بلوں کے خلاف گزشتہ ۳؍ دن سے جاری  کسانوں کے احتجاج میں جمعہ کو ملک گیربند کے بعداور بھی شدت آگئی ہے ۔ اب پورے ملک کے کسان مودی حکومت کے خلاف متحد ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف پنجاب جو اس احتجاج کا مرکز بنتا جارہا ہے ،میں کسانوں نے اپنے احتجاج کو اور شدت دیتے ہوئے ریل روکو آندولن جاری رکھا ہے جس کی وجہ سے پنجاب  میں ریلوے کی متعدد لائنیں متاثر ہیں۔ دو دن گزرنے کے بعد بھی ان پر اب تک ٹریفک بحال نہیں کیاجاسکا ہے۔  اطلاعات ہیں کہ امرتسر میں کسانوں کے ایک گروپ نے نیم برہنہ ہوکر ریلوے ٹریک پر دھرنا دیا۔نیم برہنہ مظاہرین نے  بی جےپی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے زرعی بل واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
 واضح رہے کہ کسان مزدور سنگھرش سمیتی کے بینر کے تحت کسان۲۴؍ ستمبر سے امرتسر کے دیوی داس پورا گاؤں کے نزدیک ریلوے ٹریک پر احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔ کمیٹی نے جمعہ کو اپنی تین روزہ ’ریل روکو‘ تحریک کو ۲۶؍  سے۲۹؍ ستمبر تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔احتجاج پر بیٹھے کسانوں نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ مرکزی حکومت کا  زرعی اصلاح بل کم از کم امدادی قیمت نظام کو ختم کرنے کا راستہ ہموار کرے گا اور کسان بڑے کارپوریٹ گھرانوں کے رحم و کرم پر منحصر ہوجائیں گے۔ کسانوں نے کہا کہ وہ تب تک اپنی لڑائی جاری رکھیں گے جب تک کہ تینوں زرعی  بلوں کو مسترد نہیں کردیا جاتا۔ ان کسانوں نے امرتسر کا دہلی اور دیگر علاقوں سے ریل کا رابطہ منقطع کردیا ہے۔ ادھرہریانہ میں بھی کسانوں نے اپنے احتجاج کو برقرار رکھتے ہوئے متعدد ہائی ویز کو اب بھی جام کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ہریانہ کے کئی شہروں  میں ٹریفک جام ہے جبکہ کچھ کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ ہریانہ کے کرنال ، پانی پت ، سونی پت اورحصار میں ہائی ویز پر اب بھی کسان احتجاج کررہے ہیں۔وہ اپنے مطالبات منوائے بغیر یہاں سے نہ اٹھنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ 
 ادھر کسانوں کو اپوزیشن  پارٹیوں کی جانب سے بہکانے اور ورغلانے کے حکومت کی جانب سے لگنے والے الزامات پر کسانوں کی تنظیموں نےسخت اعتراض کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت ملک کے ’اَنّ داتا ‘ کو بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے جسے کسان کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کریں گے ۔ کسان مزدور سنگھرش سمیتی کے مطابق اس وقت ملک کا کسان اور مزدور دونوں پورے ملک میں مودی حکومت کے خلاف متحد ہو گئے ہیں اس لئے حکومت کے ہاتھ پیر پھول گئے ہیں اور وہ اس طرح کی باتیں کررہی ہے۔ سمیتی کے مطابق حقیقت ہے کہ جس طرح سے کسان متحد ہوا ہے وہ کوئی اپوزیشن پارٹی نہیں کرسکتی ۔ کسانوں نے اپنے آپ کو بچانے کے لئےمیدان میں نکلنا گوارا کیا ہے اس لئے مودی حکومت انہیں بدنام کرنے کی کوششیں نہ کرے ۔سمیتی نے اعلان کیا کہ جب تک حکومت متنازع زرعی بل واپس نہیں لیتی تب تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔
 بھارتیہ کسان یونین  نے اس احتجاج کے بارے میں کہا کہ جمعہ کو ہونے والے ملک گیر مظاہروں نے یہ بات واضح کردی کہ صرف پنجاب یا ہریانہ کا کسان متاثر نہیں ہوا ہےبلکہ پورے ملک کے کسان اور مزدور ان بلوں کے خلاف میدان میں ہیں۔ یونین کے مطابق وہ اپنے مختلف طریقوں کے احتجاج سے  مودی حکومت کو اس بات کے لئے مجبور کردیں گے کہ وہ زرعی بل واپس لے لے ۔کسان یونین نےفریدکوٹ ، بھٹنڈا ، موگا ، مکتسر، جلال آباد اور اطراف کے علاقوں میں احتجاج کیا۔
 واضح رہے کہ کسانوں کے احتجاج میں اب مرکزی حکومت میںشامل شرومنی اکالی دل نے بھی شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اکالی دل نے واضح کیا  ہے کہ انہوں نے کسانوں کے مفاد کے لئے ہی مرکزی حکومت سے استعفیٰ دیا ہے لیکن ان دعوئوں پر کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر سنیل جاکھڑ نے کہا کہ یہ صرف ڈراما ہے۔ اگر اکالی دل واقعی علاحدہ ہوا ہے تو اسے حکومت سے اپنی حمایت بھی واپس لے لینی چاہئے  اور پھر کسانوں کے مفاد کی بات کرنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK