Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ کسانوں کو تکلیف ہوگی تو چلے گا، صنعتکاروں کو نہیں ہونی چاہئے‘‘

Updated: July 30, 2026, 9:08 AM IST | Jalgaon

وزیر برائے آب رسانی گلاب رائو پاٹل کا اسمارٹ میٹر کا دفاع کرتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ بیان ، کسان لیڈر ناراض، زبان سنبھال کر بات کرنے کی تاکید، کہا ’’ حکومت کا اصل چہرہ سامنے آ گیا ہے۔‘‘

Gulab Rao`s statement has rubbed salt in the wounds of farmers (Agency)
گلاب رائو کے بیان نے کسانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے ( ایجنسی)

ریاستی وزیر برائے آب رسانی گلاب رائو پاٹل نے یہ کہہ کر سبھی کو چونکا دیا کہ ریاست میں کسانوں کو تکلیف ہو تو کوئی بات نہیں مگر صنعتکاروں کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔ ان کے اس بیان سے چاروں طرف سے ان پر تنقیدیں ہو رہی ہیں۔ گلاب رائو پاٹل ایک پروگرام کے دوران بجلی کے اسمارٹ لگوانے کے فیصلے کا دفاع کر رہے تھے۔ ان کے اس بیان سے کسان لیڈروں میں سخت ناراضگی ہے اور انہوں نے گلاب رائو پاٹل کو زبان سنبھال کر بات کرنے کی تاکید کی ہے۔ 
  اطلاع کے مطابق شیوسینا (شندے) سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزیر برائے آب رسانی گلاب رائو پاٹل ایک روز قبل جلگائوں میں ایک پروگرام سے خطاب کر رہے تھے جہاں وہ اسمارٹ میٹر کے تعلق سے مقامی باشندوں کو سمجھا رہے تھے۔ انہوں نے کہا ’’ خود میرے گھر کا بجلی اس بار ۲۰؍ ہزار روپے آیا ہے۔ جبکہ مجھے کبھی ۵؍ ہزار روپے سے زیادہ کا بل نہیں آتا تھاکیونکہ میں نے گھر میں سولر پینل لگوایا تھا۔ گزشتہ ۲؍ یا ۳؍ سال سے مجھے صرف ۵؍ یا ۶؍ ہزار روپے کا بل آتا تھا۔ میری بیوی مجھ سے پوچھنے لگی ہمیں اتنا زیادہ بل کیسے آیا؟ میرے گھر سے اس طرح شروعات ہوئی۔‘‘ آگے انہوں نے کہا ’’ میری اتنی ہی گزارش ہے کہ عام آدمی کو اس سے جو تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے اسے کس طرح دور کیا جائے اس تعلق سے غور وفکر کی ضرورت ہے۔ ‘‘ گلاب رائو کا کہنا تھا ’’ میری اتنی ہی گزارش ہے کہ ایک بار ہم کسان برداشت کر لیں گے لیکن صنعتکاروں کو کافی پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔ انہیں مزدوروں کو پیسے دینے ہوتے ہیں۔ بجلی چلی گئی تو انہیں (مزدوروں کو) یہ نہیں کہا جا سکتا کہ میں تمہیں پیسے نہیں دوں گا۔ اس کی وجہ سے اس کا نقصان ہوتا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ اس کا پیداوار پر بھی اثر پڑتا ہے۔ دوسرا نیا صنعتکار آئے گا تو یہی کہے گا کہ جانے دو یہاں تو بجلی بھی نہیں ملتی تو یہاں صنعت کیوں قائم کی جائے؟ اسی لئے میری ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ کسانوں کو اگر تھوڑی تکلیف ہوتی ہے تو ہم برداشت کر لیں گے لیکن ہمارے صنعتکاروںکو تکلیف نہ ہونے دیں۔‘‘ واضح رہے کہ گلاب رائو پاٹل جلگائوں ضلع کے نگراں وزیر بھی ہیں۔   
 دراصل ان دنوں ریاست بھر میں بجلی کمپنیاں جبراً اسمارٹ میٹر لگوا رہی ہیں جبکہ صارفین اس کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ عموماً شکایت ملی ہے کہ اسمارٹ میٹر کی وجہ سے بجلی کا بل ۳؍ گنا آ رہا ہے۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں لوگ اسمارٹ میٹر کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں بات کرتے ہوئے گلاب رائو پاٹل مقامی کسانوںکو اسمارٹ میٹر کی اہمیت اور صنعتکاروں کی ’مجبوری‘ سمجھا رہے تھےمگر ان کے اس بیان سے کسان لیڈروں میں سخت ناراضگی ہے۔ 
 سینئر کسان لیڈر راجو شیٹی نے گلاب رائو پاٹل کو زبان سنبھال کر بات کرنے کی تاکید کی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ حکومت کا کسانوں کی طرف دیکھنے کا نظریہ کیسا ہے ، یہ گلاب رائو پاٹل نے اس کے نمائندے کے طور پر بیان کر دیا ہے۔ ‘‘ راجو شیٹی نے کہا’’ ایک تو کسانوں کو بچی کچھی ناقص بجلی سپلائی کی جاتی ہے۔ بجلی کی تقسیم ہوجانے کے بعد اگر کچھ بجلی بچ جاتی ہے تو وہ کسانوں کو سپلائی کی جاتی ہے۔ اور ایسی بجلائی سپلائی کرنے کے بعد حکومت کے ایک وزیر کا ایسا رویہ ہو تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کاشتکاری کے تعلق سے ان کا کیا نظریہ ہے۔ ‘‘ راجو شیٹی نے کہا ’’ گلاب رائو پاٹل یہ بات یاد رکھیں کہ وہ ایک دیہی علاقے سے منتخب ہو کر ایوان میں پہنچے ہیں۔ اگر کسانوں نے آپ کا اگلا پروگرام کر دیا تو مشکل ہو جائے گی۔ اس لئے زبان سنبھال کر بات کیا کریں۔ 
مقامی کسان لیڈر وجے سونائونے کا کہنا ہے کہ کسانوں کے ووٹوں کے دم پر بلندیوں کو چھونے والے(جلگائوں کے) نگراں وزیرکا کسانوں کے ساتھ یوں سفاکانہ مذاق کرنا افسوس ناک ہے۔  آسمانی اور سرکاری مصیبتوں سے نبرد آزما کسان ان دنوں قرض اور موسم کے سبب مشکلوں میں ، ایسی صورت میں کسان کی مدد کرنے کے بجائے گلاب رائو پاٹل اس طرح کا بیان دے رہے ہیں جو ایک طرح سے کسانوں کی بے عزتی ہے۔ این سی پی (شرد) کی ریاستی خاتون سیل کی سربراہ روہنی کھڑسے کا کہنا ہے کہ نگراں وزیر گلاب رائو پاٹل کو ایک ہفتے تک بھوکا رکھا جانا چاہئے تب انہیں اناج پیدا کرنے والے کسانوں کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔ الیکشن کے وقت کسانوں کے آگے ہاتھ جوڑنا اور الیکشن جیت جانے کے بعد صنعتکاروں کی گود میں بیٹھ جانا۔ گلاب رائو پاٹل کے اس بیان سے حکومت کا اصل چہرہ سامنے آ گیا ہے۔ 
 البتہ این سی پی (اجیت) سے تعلق رکھنے والے وزیر زراعت دتاتریہ بھرنے نے گلاب رائو پاٹل کے بیان کا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گلاب رائو پاٹل اپنے علاقے میں ایک چھوٹے سے پروگرام کے دوران مقامی کسانوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ ان کے بیان کا کچھ اور ہی مطلب نکل گیا۔  انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے ’ ’ ہم کسان برداشت کر لیں گے یعنی ، وہ خود کو بھی کسانوں میں شمار کر رہے تھے۔ ان کی یہ بات کسانوں کیلئے نہیں تھی بلکہ اپنے لوگوں کیلئے تھی۔ ‘‘  وزیر زراعت کے دفاع سے کسانوں کی ناراضگی اور بھی بڑھ رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK